18.1 C
Delhi
February 29, 2024
Hamari Duniya
مضامین

سعودی حکومت کی قرآنی خدمات

Quran
Parvez Yaqoob Madani

پرویز یعقوب مدنی
خادم جامعہ سراج العلوم السلفیہ
جھنڈانگر نیپال

قرآن مجید لازوال اور فقید المثال نعمت ہے، قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا ایسا بہترین کلام ہے جو باری تعالیٰ کی جانب سے پوری دنیا کے لئے ہدایت کا سرچشمہ اور رب العالمین کی طرف سے اپنے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ آخری کتاب اور بے مثال معجزہ ہے۔ قرآن کریم دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی اور پڑھائی جانے والی جانے والی کتاب ہے جو قرآن مجید سے پہلے نازل شدہ تمام الہامی کتابوں کی تعلیمات کو سموئے ہوئی ہے اور روز اول سے قیامت تک کے تمام مسائل کی بہترین کلید ہے۔
یہ وہ کتاب ہے جس کی حفاظت و صیانت کی ذمہ داری خود باری تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے۔ مسلمانوں کی دینی زندگی کا انحصار اس مقدس کتاب سے وابستگی پر ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑھا اور سمجھا نہ جائے۔
قرآن مجید ایسا معجزہ ہے کہ کائنات کے تمام فصحاء، بلغاء اور ادباء اس جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز اور قاصر رہے ہیں۔
یہ وہ کتاب ہے کہ اسے پڑھنے پر باری تعالیٰ بندہ مومن کو ہر حرف کے بدلے ڈھیر سارے ثواب عطاء فرماتا ہے۔ جو اس کتاب کو زبانی یاد کرتا ہے اسے اللہ رب العالمین حفظ کے مطابق جنت کے درجات اور مراتب عطاء کرتا ہے۔ گویا اس کتاب کو پڑھنے پڑھانے اس کے مسائل کو دوسروں تک پہونچانے اس کی توضیح و تشریح اور تفسیر و تفہیم اور معانی و تراجم بیان کرنے والے سب کے سب باری تعالیٰ کے محبوب ہیں۔ یہ وہ کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے معزز فرشتے کے ذریعہ معزز شخصیت پر مختلف ماہ سال میں نازل فرمایا۔ قرآن کی عظمت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے یہ کتاب جس سرزمین پر نازل ہوئی اس نے وہاں کے لوگوں کو فرشِ خاک سے اوجِ ثریا تک پہنچا دیا۔اس نے ان کو دنیا کی عظیم ترین طاقت بنا دیا۔
قرآن و سنت کی روشنی میں ملک و ملت کی خدمات کے لئے وقف مملکت سعودی عرب تاسیس مملکت کے اولین ایام سے اب تک پوری دنیا میں اپنی دینی، دعوتی، رفاہی، سیاسی، سماجی، قومی اور ملی خدمات کی وجہ سے ہر کلمہ گو مسلمان کے دل میں نمایاں مقام ومرتبہ رکھتی ہے، سعودی عرب کے ہوش مند و باعزم اور ہر دلعزیز حکمراں ملک سلمان بن عبد العزیز آل سعود اور آپ کے فرزند ارجمند ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان حفظھما اللہ اور دینی امور و اوقاف اور تمام شعبوں کے سربراہان کا پوری دنیا کے پسماندہ مسلمانوں اور انسانوں کی خبر گیری اور تعاون وہمدردی کی فقید المثال کارنامے روز افزوں دیکھے اور سنے جارہے ہیں، ہر چھوٹے بڑے کارخیر میں پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایک نظر سے دیکھتے اور تمام انسانوں کو خوش حال زندگی بسر کرنے، اور وحدت و یگانگت کی دعوت دیتے ہوئے ایک اللہ اور رسول کی باتوں کو تسلیم کرنے کی پرزور اپیلیں کرتے ہیں، سعودی عرب کا قرآن و سنت پر مبنی دستور ہمیشہ معزز حکمرانوں کے سامنے رہا ہے قرآن وسنت سے محبت کرنا اور قرآن و سنت اور توحید کی خدمت ان کا اپنا خاص منشور اور منصوبہ ہے۔ دین اسلام کی آبیاری کے جو جذبات باشندگان سعودی عرب میں ہے دوسرے ملک کے باشندوں میں خال خال نظر آتا ہے۔ مملکت سعودی عرب کا فیضان ہر خاص و عام، امیر و غریب، حاکم و محکوم، آقا اور خادم، خورد و کلاں کے لئے ہمیشہ سے رہا ہے جو حکمران سعودی عرب کے دین پسندی کی خالص اور واضح دلیل ہے۔
مملکت سعودی عرب کی سخاوت و فیاضی ہر میدان میں نمایاں ہے ملک نیپال کی خوش نصیبی ہے کہ بلد اسلام کا جاری فیضان کسی نہ کسی حد تک یہاں پہنچتا ہے اور ملک نیپال کے معزز باشندگان مستفید ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ امسال ایک بار پھر سعودی حکومت کے معزز باشاہ نے حکومت کی طرف سے ملک نیپال کے مسلمانوں کو اسلام اور قرآن سے جوڑنے کے لئے لاکھوں انعامات پر مشتمل ایک عظیم الشان اور تاریخی مسابقہ ملکی پیمانے پر منعقد کرنے کا فیصلہ صادر فرمایا ہے جو شاہی خانوادے کا قرآن کریم سے بے گناہ اور اٹوٹ محبت کی عظیم دلیل ہے۔
شاہی خانوادے کا نیپال کی تاریخ میں پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر ملک نيپال میں حفظ قرآن کے تاریخی مسابقہ کو ملک نیپال کی نمائندہ باوقار اور سرکاری تنظیم مسلم آیوگ کی اشراف و سرپرستی حاصل ہے۔ تعلیم و تعلم کے ماہرین اور ذمہ داروں نے جہاں ایک طرف دینی علوم کے طلبہ میں علمی بیداری کے لئے غور وفکر کیا تو وہیں دوسری طرف عصری کالجز کے طلبہ اور طالبات کی شرکت کے لئے بھی ان کی نشستوں پر توجہ دیا، گرانقدر انعامات کی تعیین فرمائی تاکہ حفظ قرآن کا رجحان اور جذبہ بیک وقت دینی اور عصری علوم کے طلبہ و طالبات میں بیدار ہو۔ بس ضرورت ہے کہ مدارس اور کالج کے ذمہ داران آگے آئیں اپنے طلبہ وطالبات کو حکومت سعودی عرب کی سخاوت و فیاضی کی قدر کرنے کے لئے راغب کریں اور عزیز طلبہ و طالبات بلا تفریق مسلک و مشرب اس تاریخی مسابقہ میں شرکت فرما کر گرانقدر انعامات کے حقدار بنیں اور ہر سطح پر پروگرام کو کامیاب بنائیں۔ مدارس کے مؤقر علماء اور مدرسین ہر سطح پر طلبہ کی رہنمائی فرمائیں تاکہ عندلیبان نیپال کے دلوں میں قرآن کی محبت رچ بس جائے اور اس سنہری موقعہ کا بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ باری تعالیٰ توفیق ارزانی نصیب فرمائے۔ آمین
مادر وطن نیپال کے طلبہ و طالبات کے تئیں مملکت سعودی عرب کے اس عظیم اور بہترین پیش کش پر ہم سعودی عرب کے فرمانروا خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزيز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود، شعبہ وزرات برائے دینی امور و اوقاف کی خوش خصال اور باعزم شخصیت ڈاکٹر عبد اللطیف آل شیخ اور ملحق دینی شیخ بدر بن ناصر العنزی، نیز ان کے نائب شیخ عبد اللطيف الكاتب دلہی، ملک نیپال میں مملکت سعودی عرب کے معزز اور محترم سفیر سعد ابو حیمد حفظھمم اللہ کے شکر گزار ہیں۔ قلبی تہنیت پیش کرتے ہیں۔ دین اسلام کی نشرو اشاعت کے اس مخلصانہ اور والہانہ جذبے کو سراہتے اور قدر کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد

Related posts

رام لیلا میدان میں اسلام کی دعوت

Hamari Duniya

پی ایف آئی پر پابندی کے وجوہات

Hamari Duniya

ماحول دوست سبز زراعت کے لیے اختراعی نینو کیمیاوی کھادیں

Hamari Duniya