0.5 C
New York
فروری 3, 2026
Articles مضامین

سعودی عرب کی تعمیر و ترقی میں محمد بن سلمان کا کردار

محمد بن سلمان

نازش احتشام

نازش احتشام اعظمی

تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ قوموں کی زندگی میں کچھ ایسے لمحات آتے ہیں جب ایک شخصیت اپنی بصیرت اور اولوالعزمی سے صدیوں کا سفر دہائیوں میں طے کرا دیتی ہے۔ جزیرہ نما عرب، جو اپنی قدامت پسندی اور تیل پر منحصر معیشت کے لیے جانا جاتا تھا، آج ایک ایسی تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہے جس کی مثال جدید تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ اس عظیم الشان تبدیلی کے معمار، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان (ایم بی ایس) ہیں، جنہوں نے اپنی بے پناہ جرات اور غیر متزلزل عزم سے مملکت کی تقدیر بدلنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ ان کی قیادت محض سیاسی حکمرانی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک تہذیبی ارتقاء، معاشی انقلاب اور سماجی بیداری کی وہ داستان ہے جس نے ریگزاروں کو گلزاروں میں بدلنے کا عزم کر رکھا ہے۔ گذشتہ ایک دہائی میں سعودی عرب نے جس طرح اپنی شناخت کو ازسرِ نو ترتیب دیا ہے، وہ ایک جرات مندانہ مہم جوئی سے کم نہیں۔
ویژن 2030: ایک نئے عہد کا منشور
محمد بن سلمان کی ترقیاتی فکر کا محور "ویژن 2030” ہے۔ یہ محض ایک سرکاری دستاویز نہیں بلکہ ایک ایسی قوم کا خواب ہے جو اپنے ماضی پر فخر کرتے ہوئے مستقبل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ 2016 میں جب اس وژن کا اعلان کیا گیا، تو دنیا نے اسے ایک خوابِ پریشاں سمجھا، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہ ایک حقیقت پسندانہ روڈ میپ تھا۔
تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال اور عالمی معیشت کے بدلتے ہوئے رجحانات نے یہ واضح کر دیا تھا کہ "سیاہ سونے” (تیل) پر حد سے زیادہ انحصار مملکت کے مستقبل کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایم بی ایس نے اس خطرے کو بھانپ لیا اور ایک ایسی معیشت کی بنیاد رکھی جس کا ایندھن تیل نہیں بلکہ انسانی ذہن، جدت اور تنوع ہے۔ ویژن 2030 کے تین بنیادی ستون—متحرک معاشرہ، ترقی پذیر معیشت اور اولوالعزم قوم—درحقیقت سعودی ریاست کے ڈھانچے کی مکمل اوور ہالنگ کا نام ہے۔ انہوں نے حکومتی مشینری کو اس طرح متحرک کیا کہ وزارتوں کے درمیان حائل دیواریں گر گئیں اور ایک مربوط نظامِ کار وجود میں آیا۔
معاشی تنوع: تیل کے حصار سے آزادی
سعودی عرب کی معاشی تاریخ میں محمد بن سلمان کا سب سے بڑا کارنامہ ‘پبلک انویسٹمنٹ فنڈ’ (پی آئی ایف) کو متحرک کرنا ہے۔ انہوں نے ایک خاموش پڑے ہوئے فنڈ کو عالمی سرمایہ کاری کے ایک طاقتور انجن میں تبدیل کر دیا۔ آج پی آئی ایف (پی آئی ایف) دنیا بھر کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں، سبز توانائی کے منصوبوں اور کھیلوں کی صنعت میں ایک کلیدی کھلاڑی بن چکا ہے۔
سعودی آرامکو کے حصص کی عوامی فروخت (آئی پی او) تاریخ کا ایک ایسا مالیاتی دھماکہ تھا جس نے ثابت کیا کہ مملکت اپنی سب سے قیمتی متاع کو بھی شفافیت کے کٹہرے میں لانے سے نہیں گھبراتی۔ اس سے حاصل ہونے والے سرمائے کو غیر روایتی شعبوں جیسے سیاحت، تفریح، اور مینوفیکچرنگ میں لگایا گیا۔ آج سعودی عرب میں "میڈ ان سعودی” (میڈ ان سعودی ) صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک حقیقت بن چکا ہے، جہاں دفاعی پیداوار سے لے کر کار سازی تک کے منصوبے تیزی سے پایہ تکمیل کو پہنچ رہے ہیں۔

میگا پروجیکٹس: مستقبل کے شہروں کی تعمیر
محمد بن سلمان کی تعمیراتی فکر کی سب سے مسحور کن مثال "نیوم” (نیوم) ہے۔ یہ بحیرہ احمر کے ساحل پر بسنے والا ایک ایسا شہر ہے جو تخیل اور حقیقت کے سنگم پر واقع ہے۔ 500 بلین ڈالر کی لاگت سے بننے والا یہ منصوبہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا ‘سمارٹ سٹی’ ہوگا۔ جہاں گاڑیاں نہیں بلکہ خودکار نقل و حمل ہوگی، جہاں مصنوعی ذہانت انسانی زندگی کی سہولت کار ہوگی اور جہاں توانائی کا واحد ذریعہ سورج اور ہوا ہوگی۔
اس کے علاوہ ‘دی لائن’ (دی لائن)، ‘قدیہ’  اور ‘ریڈ سی پروجیکٹ’ جیسے منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایم بی ایس سعودی عرب کو عالمی سیاحت کا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ قدیہ کے ذریعے مملکت دنیا کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ وہ تفریح اور کھیلوں کے میدان میں کسی سے پیچھے نہیں رہے گی۔ یہ منصوبے نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری کا ذریعہ ہیں بلکہ لاکھوں سعودی نوجوانوں کے لیے روزگار کی نئی راہیں کھول رہے ہیں۔
سماجی انقلاب: قدامت پسندی سے اعتدال پسندی تک
کسی بھی ملک کی ترقی اس وقت تک ادھوری ہے جب تک اس کی نصف آبادی یعنی خواتین کو قومی دھارے میں شامل نہ کیا جائے۔ محمد بن سلمان نے اس حقیقت کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اسے عملی جامہ پہنایا۔ خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینا، ان کے لیے ملازمتوں کے دروازے کھولنا اور سرپرستی کے پرانے قوانین میں اصلاحات کرنا، یہ وہ اقدامات تھے جنہوں نے سعودی معاشرے کی سماجی بنت کو بدل کر رکھ دیا۔ آج ریاض اور جدہ کی سڑکوں پر اعتماد سے چلتی ہوئی سعودی خاتون اس نئے دور کی علامت ہے۔
سعودی عرب میں دہائیوں سے جاری سینماؤں پر پابندی کا خاتمہ اور بین الاقوامی موسیقی کے میلوں کا انعقاد یہ ظاہر کرتا ہے کہ مملکت اب اپنے خول سے باہر نکل آئی ہے۔ جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے قیام نے سعودی شہریوں کو وہ خوشیاں اور تفریح ان کے اپنے گھر میں فراہم کیں جس کے لیے وہ پہلے بیرونِ ملک کا رخ کرتے تھے۔ یہ ثقافتی بیداری سعودی عرب کی "نرم طاقت” (سوفٹ پاور) کو عالمی سطح پر مستحکم کر رہی ہے۔
نوجوانوں کی قیادت اور انسانی سرمایہ
محمد بن سلمان خود ایک نوجوان لیڈر ہیں، اس لیے وہ نوجوانوں کی نفسیات اور ان کی امنگوں کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ سعودی عرب کی 60 فیصد سے زائد آبادی 35 سال سے کم عمر ہے، اور ایم بی ایس نے اس ‘یوتھ بلج’ کو ایک طاقتور اثاثے میں بدل دیا ہے۔ انہوں نے تعلیم کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں متعارف کرائیں، جہاں رٹے بازی کے بجائے تنقیدی سوچ اور ڈیجیٹل مہارتوں پر زور دیا گیا۔
‘مسک فاؤنڈیشن’ (مسک فاؤنڈیشن) جیسی تنظیموں کے ذریعے انہوں نے نوجوانوں میں لیڈرشپ اور انٹرپرینیورشپ کی روح پھونکی۔ آج کا سعودی نوجوان صرف سرکاری ملازمت کا محتاج نہیں بلکہ وہ اسٹارٹ اپس بنا رہا ہے، عالمی ای-اسپورٹس میں حصہ لے رہا ہے اور خلائی مشنوں کی تیاری کر رہا ہے۔ انسانی سرمائے پر یہ سرمایہ کاری ہی وہ ضمانت ہے جو سعودی عرب کے مستقبل کو روشن بناتی ہے۔
حکمرانی میں شفافیت اور کرپشن کا خاتمہ
ترقی کا عمل اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک نظام میں شفافیت نہ ہو۔ محمد بن سلمان نے "احتساب” کو اپنا شعار بنایا۔ 2017 میں ہونے والی کرپشن مخالف مہم نے پوری دنیا کو حیران کر دیا، جہاں کسی عہدے یا مرتبے کی رعایت کے بغیر بدعنوان عناصر سے اربوں ڈالر سرکاری خزانے میں واپس لائے گئے۔ اس اقدام نے ایک واضح پیغام دیا کہ نئے سعودی عرب میں عوامی مال کی لوٹ کھسوٹ کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
مزید برآں، ‘ابشر’ جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے سرکاری خدمات کو شہریوں کی دہلیز تک پہنچا دیا۔ بیوروکریسی کی پیچیدگیوں کو ختم کر کے ایک ایسا ‘ای گورننس’ ماڈل پیش کیا گیا جس کی مثال بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں بھی نہیں ملتی۔ اب پاسپورٹ کی تجدید ہو یا کاروباری لائسنس کا حصول، سب کچھ ایک کلک کی دوری پر ہے۔
مذہبی اعتدال اور عالمی کردار
محمد بن سلمان نے نہایت جرات کے ساتھ سعودی عرب کی مذہبی شناخت کو "اعتدال پسند اسلام” (موڈریٹ اسلام) کی طرف موڑا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ سعودی عرب اپنی ان اصل جڑوں کی طرف لوٹ رہا ہے جہاں رواداری، امن اور بقائے باہمی کے اصول رائج تھے۔ انتہا پسندی کے خلاف ان کا سخت موقف اور بین المذاہب مکالمے کی حوصلہ افزائی نے عالمی سطح پر مملکت کے وقار میں اضافہ کیا ہے۔
خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی ایم بی ایس نے ایک نئی تزویراتی (اسٹریٹجک) گہرائی پیدا کی ہے۔ اب سعودی عرب صرف مغرب کا اتحادی نہیں بلکہ وہ مشرق (چین، بھارت، روس) کے ساتھ بھی متوازن اور مضبوط معاشی تعلقات استوار کر رہا ہے۔ جی-20 میں سعودی عرب کا فعال کردار اور ‘گرین مڈل ایسٹ’ جیسے ماحولیاتی اقدامات یہ ثابت کرتے ہیں کہ مملکت اب عالمی مسائل کے حل میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہے۔
چیلنجز کا سامنا اور مستقبل کی سمت
اتنی بڑی تبدیلیوں کا راستہ کبھی بھی ہموار نہیں ہوتا۔ محمد بن سلمان کو بھی اندرونی اور بیرونی سطح پر شدید تنقید اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ قدامت پسند طبقے کی ناراضگی ہو یا بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے اعتراضات، انہوں نے ہر محاذ پر اپنے وژن کا دفاع کیا۔ ان کا فلسفہ سادہ ہے: "نتائج خود بولتے ہیں”۔ معاشی اتار چڑھاؤ اور علاقائی تنازعات کے باوجود، سعودی عوام کی اکثریت، خاص طور پر نوجوان، ان کے اصلاحاتی ایجنڈے کے پیچھے مضبوطی سے کھڑے ہیں۔
حرفِ آخر: ایک پائیدار میراث کی تعمیر
محمد بن سلمان کا دورِ حکومت سعودی عرب کی تاریخ میں ایک "پیراڈائم شفٹ” کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے ایک ایسی مملکت کا تصور پیش کیا ہے جو اپنی اسلامی اور عرب شناخت پر فخر کرتی ہے لیکن جدیدیت کی دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں رہنا چاہتی۔ ان کی قیادت میں سعودی عرب ایک ‘صارف قوم’ سے ‘پیداواری قوم’ بننے کی طرف گامزن ہے۔
تعمیر و ترقی کا یہ سفر محض اینٹ اور گارے کی عمارتیں بنانے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک قوم کے اعتماد کی بحالی کی داستان ہے۔ محمد بن سلمان نے ثابت کیا کہ اگر وژن سچا ہو اور ارادہ پختہ، تو صحرا کے تپتے ہوئے ریتلے ذرے بھی ستاروں کی طرح چمک سکتے ہیں۔ ان کی اصلاحات کے اثرات انے والی کئی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے اور تاریخ انہیں ایک ایسے مصلح کے طور پر یاد رکھے گی جس نے ایک قدیم سرزمین کو جدید دنیا کے صفِ اول میں لا کھڑا کیا۔
آج کا سعودی عرب، محمد بن سلمان کی فکر کا آئینہ دار ہے—ایک ایسا ملک جو اپنی روایات کی حفاظت بھی جانتا ہے اور مستقبل کی تسخیر کا ہنر بھی۔ 

Related posts

سعودی عرب میں ملازمت کرنا ہوا مزید آسان، ’کفالہ نظام‘ ختم

admin@hamariduniyanews.com

وزیر اعظم مودی کی بے نظیر سفارت کاری: چھ میں سے پانچ جی سی سی ممالک نے وزیر اعظم مودی کو اعلیٰ ترین اعزازسے نوازا ہے

Hamari Duniya News

سال 2025: اصلاحات کا سال، بقلم: نریندر مودی، وزیراعظم ہند

Hamari Duniya News