1.1 C
New York
فروری 10, 2026
Articles مضامین

اسلامی نظامِ تعلیم میں تادیب کے اصول

اسلامی تعلیمات

ڈاکٹر عبد الغنی القوفی
استاد جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈا نگر

نیپال وصدر راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال
alqoofi@gmail.com

اسلامی نظامِ تعلیم محض معلومات کی منتقلی کا نام نہیں، بلکہ انسان کی ہمہ جہت تربیت (جسمانی، عقلی، اخلاقی اور روحانی) کا ایک متوازن نظام ہے۔ اسلام میں تربیت اور نگہداشت کی اہمیت اس سے زیادہ اور کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ نے اپنا پسندیدہ وصفی نام "رب”، ذکر فرمایا ہے، سارے انبیاء کرام اور صلحائے امت نے اللہ سے خیر کی طلب اور شر سے پناہ اور اپنے سارے حوائج کے مطالبے کے لئے اللہ کے اسمائے حسنی میں سے بطور خاص "رب” کا انتخاب فرمایا، قرآن نے ( ولكن كونوا ربانيين بما كنتم تعلمون الكتاب وبما كنتم تدرسون) (آل عمران: 79)، کہہ کر تعلیم کے تربیتی اور تادیبی پہلو کی عظمت کو اجاگر کر دیا۔ اسلامی نظام میں تادیب (discipline) کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، مگر یہ تادیب جبر، تشدد یا تحقیر پر مبنی نہیں بلکہ اصلاح ودرستگی، رحمت اور حکمت کے اصولوں کے تحت انجام دی جاتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میں تادیب کا مقصد طالبِ علم کو رہ راست پر لانا، اس کے اخلاق کو سنوارنا اور اسے خیر کے راستے پر گامزن کرنا ہے، نہ کہ اسے خوف زدہ کرنا یا اس کی شخصیت کو مجروح کرنا۔

تادیب کا مفہوم اور اسلامی تصور:

عربی لفظ تادیب، ادب سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں: اچھے اخلاق سکھانا، درست طریقہ اپنانے کی تربیت دینا۔ اسی لیے اسلامی تناظر میں تادیب ہمیشہ تعلیم اور تزکیہ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
«بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ» (مسند أحمد، ج 2، ص 381؛ الحاكم، المستدرك، وقال: صحيح الإسناد، صحيح الجامع للألباني رقم: ٢٨٣٣)۔
(میں اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں)۔
یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلام میں تربیت اور تادیب کا اصل محور اخلاق ہے، نہ کہ سزا۔

شخصیت سازی کا قرآنی و نبوی منہج:

اسلامی نظامِ تربیت کا مرکزِ اول خاندان ہے۔ قرآن کریم نے مربیوں اور والدین پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو جہنم کی آگ سے بچانے کی فکر کریں۔
* ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا» (التحریم: 6)۔
  اس آیت کی تفسیر میں امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «أدبُوهم وعَلِّموهم» (انہیں ادب سکھاؤ اور انہیں علم دو)۔
   (حوالہ: المستدرک علی الصحیحین للحاکم، حدیث: 3824؛ جامع البيان للطبري، 23/ 491)۔

نکتہ: تعلیم اور تزکیہ کی تقدیم و تاخیر
قرآنِ کریم میں چار مقامات پر انبیاء کی بعثت کے مقاصد میں "تعلیم” اور "تزکیہ” (شخصیت سازی و تادیب) کا ذکر آیا ہے۔ قرآن نے کہیں تعلیم کو مقدم کیا تو کہیں تزکیہ کو، جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں:
* تعلیم کی تقدیم: «يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ» (البقرہ: 129)۔ یہاں تعلیمِ کتاب کو تزکیہ پر مقدم کیا گیا۔
* تزکیہ کی تقدیم: «يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ» (آل عمران: 164؛ الجمعہ: 2)۔ یہاں تزکیہ کو تعلیم پر مقدم کیا گیا ہے۔
مفسرین (مثلاً امام رازی،علامہ آلوسی اور ابن عاشور) اس نکتہ کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ جہاں تزکیہ مقدم ہے وہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ تعلیم کا اصل ثمرہ اور مقصد اخلاق کی درستی ہے، اور جہاں تعلیم مقدم ہے وہاں یہ اشارہ ہے کہ صحیح تزکیہ اور تادیب کے لیے علم کا ہونا ضروری ہے۔ تزکیہ کے بغیر علم محض معلومات کا ڈھیر ہے، اور علم کے بغیر تزکیہ ممکن نہیں۔
علامہ فخر الدین الرازیؒ اس تقدیم و تاخیر کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علم اگر تزکیہ کے بغیر ہو تو وہ حجت تو بن جاتا ہے، ہدایت نہیں بنتا، اور تزکیہ اگر علم کے بغیر ہو تو جذبات تو پیدا کرتا ہے مگر بصیرت نہیں۔
امام ابن تیمیہؒ اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ شریعتِ اسلامیہ کا اصل مقصود محض معلومات کا انبار لگانا نہیں، بلکہ ایسے قلوب کی تیاری ہے جو حق کو قبول کرنے، اس پر ثابت قدم رہنے اور اسے عمل و اخلاق میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ چنانچہ وہ واضح کرتے ہیں کہ علم اگر تزکیۂ نفس کے بغیر ہو تو وہ محض حجت بن جاتا ہے، ہدایت نہیں بنتا، اور تزکیہ اگر علم سے خالی ہو تو وہ صحیح راہ نمائی کے بجائے محض جذباتی کیفیت پیدا کرتا ہے۔
اسی اصول کی رعایت سے قرآنِ مجید نے کہیں تزکیہ کو تعلیم پر مقدم کیا ہے اور کہیں تعلیم کو تزکیہ پر، تاکہ انسان کی شخصیت علم و عمل، فہم و اخلاق، اور شعور و کردار کے توازن کے ساتھ پروان چڑھے۔ یہ تقدیم و تاخیر دراصل اسلامی منہجِ تربیت میں متوازن شخصیت سازی (Balanced Character Building) کی حکمت کو نمایاں کرتی ہے۔

امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:
«فإنّ العلم إن لم يقترن بالعمل كان حجّة على صاحبه، والعمل إذا لم يُبنَ على علم كان ضلالًا، وإنما مقصود الشريعة أن يُعلَّم العباد ما ينفعهم، وتُزكّى قلوبهم بما يصلحها.»
(مجموع الفتاوی 10/646 ط۔ الفوائد)

احادیثِ صحیحہ اور نبوی اسوہ:

نبی کریم ﷺ کی تعلیم و تربیت کا طریقہ سراسر رحمت اور حلم پر مبنی تھا۔
1. بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک
حضرت انسؓ فرماتے ہیں:
«خَدَمْتُ النبيَّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، فَما قالَ لِي: أُفٍّ ، ولَا: لِمَ صَنَعْتَ؟ ولَا: ألَّا صَنَعْتَ.» (متفق علیہ: صحیح بخاری: 6038، صحیح مسلم: 2309)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اصلاح ڈانٹ ڈپٹ اور مارپیٹ کے بغیر بھی ممکن ہے۔

2. سزا میں اعتدال اور حد بندی

نبی ﷺ نے فرمایا:
»مُرُوا أولادَكم بالصلاةِ و هم أبناءُ سبعِ سِنِينَ، واضرِبوهم عليها وهم أبناءُ عشرِ سِنِينَ»
(سنن ابی داود: 495، صحيح الجامع 5868)
اس حدیث میں بھی ضرب کو آخری درجے کے طور پر اور ایک خاص عمر و ضرورت کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے، نہ کہ بطورِ معمول۔

علمائے متقدمین کی تصنیفات میں تادیب:
1. امام غزالیؒ:
امام غزالیؒ احیاء علوم الدین میں لکھتے ہیں کہ استاد کو طالب علم پر شفقت رکھنی چاہیے، کیونکہ وہ اس کے دل کو سنوارنے والا ہوتا ہے، نہ کہ اسے توڑنے والا۔
2. ابن سحنونؒ:
کتاب آداب المعلمين میں وہ لکھتے ہیں کہ بچے کو مارنے سے پہلے نصیحت، تنبیہ اور ترغیب کے تمام مراحل اختیار کیے جائیں۔
3. محمد بن ابی زید قیرواني:
انہوں نے قاضی شریحؒ سے نقل کیا:
“معلّم کے لیے جائز نہیں کہ وہ تعلیم میں بچے کو تین ضربوں سے زیادہ لگائے۔” (ابن خلدون، التاريخ(المقدمة)، ١٥٨)
یہ قول اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سلف کے نزدیک بھی تادیب میں حدود اور ضوابط لازم تھے۔

سلف صالحین کے عملی نمونے:

ہارون رشید کی اپنے بچے کے اتالیق کو دی گئی اہم ہدایات: تعلیم، تادیب اور قیادت سازی کا جامع منہج:

علامہ ابن خلدونؒ نے تصریح کی ہے کہ تعلیم کے بہترین مناہج میں سے وہ ہدایات ہیں جو خلیفۂ وقت ہارون الرشید نے اپنے بیٹے محمد الامین کے مؤدِّب کو دیں۔ یہ وصایا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ اسلامی تربیت کا ایسا ہمہ گیر خاکہ ہیں جس میں علم، ادب، تادیب، ذہنی نشوونما اور سماجی شعور سب یکجا نظر آتے ہیں۔
خلف الأحمر بیان کرتے ہیں کہ ہارون الرشید نے فرمایا:
"اے احمر! امیر المؤمنین نے اپنی جان کا ٹکڑا اور دل کا پھل تیرے سپرد کیا ہے، پس تیرا ہاتھ اس پر کھلا ہو، اور اس کی اطاعت تجھ پر لازم ہو۔ تم اس کے لیے وہی بنو جس منصب پر امیر المؤمنین نے تمہیں فائز کیا ہے۔
اسے قرآن پڑھاؤ، اسے تاریخ و اخبار سے آگاہ کرو، اسے اشعار یاد کراؤ، اسے سنتوں کی تعلیم دو، اور اسے کلام کے مواقع، اس کی ابتدا اور انجام کی بصیرت عطا کرو۔
اسے بے وقت ہنسی سے روکے رکھو، اور جب بنی ہاشم کے مشائخ اس کے پاس آئیں تو ان کی تعظیم سکھاؤ، اور جب فوجی قائدین اس کی مجلس میں آئیں تو ان کے مراتب اور مجالس کا احترام کرنا سکھاؤ۔
تم پر کوئی گھڑی ایسی نہ گزرے مگر یہ کہ تم اس میں کوئی فائدہ اسے پہنچاؤ، اس طرح کہ اسے رنجیدہ نہ کرو کہ اس کی ذہانت مر جائے۔
اور نرمی میں حد سے تجاوز نہ کرنا کہ وہ فراغت اور بے فکری کا عادی ہو جائے، بلکہ جہاں تک ہو سکے قربت اور ملاطفت سے اس کی اصلاح کرو، اور اگر یہ کارگر نہ ہو تو پھر سختی اور درشتی اختیار کرو۔”
(ابن خلدون، التاريخ، 1/743)
ان وصایا کا تجزیہ کیا جائے تو یہ اسلامی تادیب کے درج ذیل بنیادی اصول واضح کرتی ہیں:
1. علم کی جامعیت: قرآن، سنت، تاریخ اور ادب – سب کو تربیت کا حصہ بنایا گیا۔
2. ذہنی و لسانی تربیت: کلام کی ابتدا و انتہا سکھا کر فکری بلوغت کی طرف رہنمائی۔
3. اخلاقی ضبط: ہنسی، سنجیدگی اور وقار میں توازن۔
4. سماجی و قیادی شعور: بڑوں کے احترام اور مجالس کے آداب کی تعلیم۔
5. نفسیاتی حکمت: نہ ایسی سختی جو ذہن کو مار دے، نہ ایسی نرمی جو سستی پیدا کرے۔
6. تادیب میں تدریج: اصل نرمی و قربت، اور سختی آخری مرحلہ۔
یہ وصایا اس حقیقت کی روشن دلیل ہیں کہ اسلامی تربیت محض فرد کی اصلاح تک محدود نہیں بلکہ اسے مستقبل کی ذمہ داریوں، قیادت اور اجتماعی کردار کے لیے تیار کرتی ہے۔ یہی ہمہ گیری اسلامی نظامِ تعلیم کو دیگر تربیتی نظاموں پر امتیاز عطا کرتی ہے۔

اسلامی تادیب کے بنیادی اصول:

مندرجہ بالا نصوص اور آثار کی روشنی میں اسلامی نظامِ تعلیم میں تادیب کے درج ذیل اصول سامنے آتے ہیں:

1. تادیب کا مقصد اصلاح ہو، انتقام نہیں۔
2. نرمی اور شفقت اصل ہے، سختی استثناء۔
3. جسمانی سزا آخری مرحلہ اور محدود ہو۔
4. سزا میں حد سے تجاوز حرام اور اخلاقی فساد کا سبب ہے۔
5. استاد طالب علم کے لیے مربی اور مشفق باپ کی حیثیت رکھتا ہے۔

شخصیت سازی کا آغاز: گھر، والدین اور اوّلین تربیت:
اسلامی تصورِ تعلیم و تربیت میں شخصیت سازی (Character Building) کا نقطۂ آغاز مدرسہ یا درسگاہ نہیں بلکہ گھر ہے۔ قرآن مجید نے اس حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾
اس آیت میں سب سے پہلے اپنی ذات اور پھر اہل و عیال کی اصلاح کی ذمہ داری عائد کی گئی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ تربیت کا پہلا دائرہ خاندان ہے، اور والدین اس دائرے کے اوّلین مربی ہیں۔
نبی کریم ﷺ کی تعلیمات بھی اسی حقیقت کی تائید کرتی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: "كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ علَى الفِطْرَةِ ، فأبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، أوْ يُنَصِّرَانِهِ، أوْ يُمَجِّسَانِهِ۔۔۔”۔ (متفق علیہ)۔
کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ شخصیت کی بنیادیں بچپن ہی میں اور بالخصوص گھر کے ماحول میں رکھی جاتی ہیں۔

سلف کا طرزِ عمل: تربیت کا آغاز اپنے گھر سے:
سلف صالحین کے ہاں نصیحت، تعلیم اور تادیب کا دائرہ ہمیشہ اپنے زیرِ کفالت افراد سے شروع ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں علمی تاریخ میں متعدد ایسی عظیم تصانیف ملتی ہیں جو خاص طور پر اولاد کی تربیت کے لیے لکھی گئیں، مگر اخلاصِ نیت اور صدقِ نصیحت کے باعث وہ پوری امت کے لیے مشعلِ راہ بن گئیں۔
اسی حقیقت کو اہلِ علم نے یوں بیان کیا ہے کہ:
ابن آجروم نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب "الآجرومية” اپنے بیٹے کے لیے تصنیف کی۔
حافظ ابن حجر نے "بلوغ المرام” اپنے فرزند کے لیے مرتب کی۔
علامہ السقاف نے "العود الهندي” اپنے بیٹے کی اصلاح کے لیے لکھی۔
امام ابن القیم نے اپنی اولاد کی تربیت کے لئے "تحفة المودود” تصنیف کی۔
امام ابن الجوزی نے والدین کے جذبات اور اولاد کی ذمہ داریوں پر "لفتة الكبد” لکھی۔
ابو اسحاق الإلبیری نے اپنا مشہور قصیدہ تائیہ اپنے بیٹے کو نصیحت کے طور پر کہا۔
ابو الولید الباجی نے اپنے دونوں بیٹوں کے لیے "النصيحة الولدية” تحریر کیا۔
سراج الدین البلقینی نے اپنے بیٹے کی تادیب و اصلاح کے لیے "كتاب التأديب” تصنیف کیا۔
یہ وہ تصانیف ہیں جو اگرچہ اولاد کے لیے لکھی گئیں، مگر ان کی افادیت آفاقی ثابت ہوئی، اور صدیوں سے اہلِ علم و طلبہ ان سے استفادہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ مؤلفین کا اخلاص، نیت کی صفائی اور اس ذمہ داری کا شعور تھا جس کے بارے میں وہ جانتے تھے کہ وہ اپنے اہل و عیال کے بارے میں اللہ کے سامنے جواب دہ ہیں۔

گھر سے مدرسہ تک: کردار سازی کا فطری تسلسل:
اسلامی نظام میں کردار سازی محض نصابی علم سے ممکن نہیں۔ اگر گھر میں ادب، خوفِ الہی، سچائی اور ضبطِ نفس کی بنیاد نہ رکھی جائے تو مدرسہ بھی اپنا مطلوبہ کردار ادا نہیں کر پاتا۔ اسی لیے سلف کے نزدیک استاد کی تادیب اور والد کی تربیت ایک ہی سلسلے کی دو کڑیاں تھیں۔
والدین کی ذمہ داری صرف تعلیم دلوانا نہیں، بلکہ خود نمونہ بننا ہے۔ بچہ والدین کے عمل سے وہ سیکھتا ہے جو کسی کتاب سے نہیں سیکھ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ سلف پہلے اپنے گھروں کو سنوارتے، پھر معاشرے کی اصلاح کا فریضہ انجام دیتے تھے۔

ہمہ گیر اسلامی منہجِ تربیت:
مندرجہ بالا نصوصِ شرعیہ، سلف صالحین کے آثار، اور ہارون الرشید جیسی عملی مثالوں سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اسلامی نظامِ تعلیم و تربیت ایک ہمہ گیر اور متوازن منہج ہے۔ یہ منہج:
گھر سے آغاز کرتا ہے اور والدین کو اوّلین مربی قرار دیتا ہے۔
استاد کو محض معلّم نہیں بلکہ مؤدِّب، مربی اور کردار ساز سمجھتا ہے۔
علم کے ساتھ ادب، ذہانت کے ساتھ وقار، اور آزادی کے ساتھ ضبط کو لازم قرار دیتا ہے۔
نرمی کو اصل اور سختی کو آخری مرحلہ سمجھتا ہے۔
اسلامی تربیت کا مقصد ایسا انسان تیار کرنا ہے جو علم میں راسخ، اخلاق میں پختہ، گفتگو میں باوقار، اور معاشرت میں ذمہ دار ہو۔ یہی وہ شخصیت ہے جو نہ صرف اپنی ذات بلکہ پورے معاشرے کے لیے خیر کا ذریعہ بنتی ہے۔
ان ساری تفصیلات سے بخوبی واضح ہو گیا کہ اسلامی نظامِ تعلیم میں تادیب، شخصیت سازی اور کردار پروری ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔ قرآن کی ہدایت "قوا أنفسكم وأهليكم نارا” سے لے کر نبوی اسوہ، اور سلف صالحین کے عملی نمونوں تک، ہر جگہ یہ پیغام ملتا ہے کہ اصلاح کا آغاز اپنے آپ سے اور اپنے گھر سے کیا جائے۔
اولاد کے لیے لکھی گئی کتابیں ہوں یا خلفاء کی تربیتی وصایا، سب کا مشترکہ جوہر اخلاص، ذمہ داری کا احساس اور خیرِ امت کی فکر ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جن کی بدولت اسلامی تربیتی منہج زمانوں کی قیود سے آزاد ہو کر ہر دور میں قابلِ عمل اور مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

اسلامی نظامِ تادیب درج ذیل اصولوں پر مبنی ہے:
* تزکیہ و تعلیم کا توازن: علم حاصل کرنے کا مقصد محض ڈگریاں نہیں بلکہ کردار کی پاکیزگی ہے۔
* تدریج: پہلے نرمی اور قربت، پھر تنبیہ، اور آخر میں نہایت محدود سزا۔
* ذہنی نشوونما کی حفاظت: مربی کو ایسی سختی سے بچنا چاہیے جو بچے کے "ذہن کو مار دے” (تميت ذهنه)۔
* خلوصِ نیت: اسلاف کی طرح اپنی اولاد اور شاگردوں کی تربیت کو ایک دینی مشن سمجھنا۔
اسلامی نظامِ تعلیم میں تادیب کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان کی ظاہری اصلاح کے ساتھ اس کے باطن کو بھی جلا بخشی جائے۔ جب تعلیم و تربیت کا آغاز "اخلاص” کے ساتھ اپنے گھر سے ہوتا ہے اور اس میں سلف صالحین کے بتائے ہوئے اعتدال پسندانہ اصولوں کو اپنایا جاتا ہے، تو وہ تعلیم ثمر آور ہوتی ہے۔ آج کے تعلیمی بحران کا حل اسی متوازن منہج کی طرف واپسی میں ہے جہاں استاد ایک ہمدرد مربی اور والدین ایک بیدار مغز رہنما ہوں۔

Related posts

سعودی عرب میں ملازمت کرنا ہوا مزید آسان، ’کفالہ نظام‘ ختم

admin@hamariduniyanews.com

سعودی عرب میں ملازمت کرنا ہوا مزید آسان، ’کفالہ نظام‘ ختم

admin@hamariduniyanews.com

سعودی عرب میں ملازمت کرنا ہوا مزید آسان، ’کفالہ نظام‘ ختم

admin@hamariduniyanews.com