44.1 C
Delhi
June 18, 2024
Hamari Duniya
Breaking News مضامین

اڈانی کے ساتھ مودی جی کی ساکھ داؤ پر

PM Modi- Adani
مشرف شمسی
ٹی وی چینلوں اور ملک کے بڑے گروپ کے اخبارات کو مودی سرکار اپنی حمایت میں کرنے کے باوجود موجودہ بی جے پی سرکار پر ان دنوں مسلسل حملے ہو رہے ہیں اور ان حملوں کی وجہ سے مودی سرکار پوری طرح بیک فٹ پر نظر آ رہی ہے۔خاص کر اڈاني گروپ کی بدعنوانی رپورٹ جو ہینڈن برگ نے شائع کی ہے اس کی وجہ سے اڈانی گروپ کو  بڑا مالی خسارہ ہوا ہے اوراڈاني دنیا کی دوسرے نمبر کے امیرترین شخص سے کھسک کر اکیسوی نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔اڈانی کی بد عنوانی کے اجاگر ہونے سے جو نقصان اڈانی گروپ کو ہوا سو ہوا لیکن بھارت سرکار کی ساکھ اُن کے اپنے حمایتیوں کے درمیان بھی داؤ پر لگ گئی ہے۔سرکار کسی بھی طرح اڈانی کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے لیکن ہینڈن برگ کا ریکارڈ کہتا ہے کہ اس کمپنی نے جس بزنس ٹائکون کے خلاف بد عنوانی کی رپورٹ جاری کی ہے وہ بزنس ٹائکون کبھی پھر کھڑا نہیں ہو پایا ہے ۔اڈانی کے ڈوبنے سے صرف اڈانی ہی نہیں ڈوبے گا بلکہ ایل آئی سی اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا جیسی بھروسے مند سرکاری ادارے کی ساکھ بھی داؤ پر لگ جائے گی۔ایل آئی سی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آج تک یہ کمپنی کبھی خسارے میں نہیں رہی ہے لیکن اڈانی گروپ میں اسی ہزارکروڑ ڈال دینے سے پہلی بار ایل آئی سی کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔
ایل آئی سی ،ایس بی آئی ،پنجاب نیشنل بینک اور دوسرے بینک جن کے پیسے اڈانی گروپ میں لگے ہیں اور اس گروپ کا شیئر اسی طرح گرتا رہتا ہے تو واقعی ان سرکاری اداروں کو بھی بھاری نقصان ہوگا جس کی قیمت اس ملک کے عوام کو چکانی پڑےگی۔پیسے کا نقصان تو یقیناً اس ملک کے عوام کو ہوگا ہی لیکن ہینڈن برگ کی رپورٹ سے سیاسی نقصان یقیناً آنے والے چناؤ میں بی جے پی کو ہوگا۔اڈانی کی بدعنوانی پر نہ صرف جانچ ایجنسیاں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں بلکہ ٹی وی چینلوں کو سانپ سونگھ گیا ہے۔
راہول گاندھی کے پیدل سفر سے بی جے پی پہلے ہی بے چینی محسوس کر رہی تھی ۔جس طرح سے راہول گاندھی نے ملک میں نفرت کے ماحول کو اجاگر کیا اس کی وجہ سے بی جے پی کے لئے ہندو مسلم روز مرہ کی بنیاد پر کرنا مشکل ہو گیا ہے ۔ساتھ ہی بے روزگاری اورمہنگائی کے موضوع کو سامنے لا کر کانگریس ایم پی نے بی جے پی میں بوکھلاہٹ پیدا کر دیا ہے ۔راہول گاندھی کے پیدل سفر کے دوران ہی بی بی سی کی ڈاکومنٹری سامنے آ گئی ۔ڈاکومنٹری نے وزیر اعظم مودی کا فاسسٹ چہرہ بھارت میں اور بھارت کے باہر عیاں کر دیا ہے ۔بی بی سی کی ڈاکومنٹری نے ثابت کیا ہے کہ وزیر اعظم ایک جانب دار شخص ہیں جو ملک پر حکومت کے اہل نہیں ہیں۔حالانکہ مودی حمایتی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم مودی کو 2002 معاملہ کے لئے سپریم کورٹ سے کلین چٹ مل چکی ہے ۔ اسلئے اس معاملے میں آگے کوئی بات بے معنی ہے ۔
لیکن اڈانی کی بد عنوانی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد صرف مودی اور شاہ نہیں بلکہ پوری بی جے پی کی سٹّی پِٹّی گم ہو گئی ہے۔اڈانی کا شیئر اسی طرح گرتا رہا اور اس کمپنی کی بازار میں اٹھنے کی امید مدّھم ہو جاتی ہے تو مودی جی اپنی سیاست کو بچانے کے لیے اپنے سب سے قریبی اڈانی کے خلاف بھی کاروائی کی شروعات کر دیں گے۔بھلے اڈانی کی گرفتاری ہو یا نہ ہو لیکن اُسے باہر بھاگنے کا راستہ ضرور دے دیا جائے گا ۔تاکہ غیر ممالک میں آرام سے اڈانی اپنی باقی کی زندگی  گزار سکے۔کیونکہ مودی جی کی گزشتہ زندگی پر نظر دوڑائیں تو صاف پتہ چلے گا کہ استعمال کیا پھینکو اُنکی عادت رہی ہے ۔پروین توگڑیا،سنجے جوشی،ایل کے ایڈوانی،مرلی منوہر جوشی ،منوہر پریکر ،ارون جیٹلی اور سشما سوراج ایسے کچھ نام ہیں ۔یہ لسٹ اور لمبی ہو سکتی ہے جن کے کندھے پر پیررکھ کر وزیر اعظم کی کرسی تک پہنچے ہیں۔پھر اڈانی کیا چیز ہے۔کیونکہ مودی جی کی سیاست باقی رہتی ہے تو کتنے اڈانی پیدا کیے جا سکتے ہیں ۔دیکھئے ہینڈن برگ رپورٹ اڑانی کو کس حد نیچے لے جاتی ہے اور وزیر اعظم مودی اپنی سیاست کس طرح بچاتے ہیں ۔
موبائل 9322674787

Related posts

یوئیفا ویمنز چیمپئنس لیگ میں کھیلنے والی پہلی بھارتی خاتون کھلاڑی بنیں منیشا کلیان

Hamari Duniya

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پروفیسر آئی آئی ٹی مدراس کے ممتاز المنائی ایوارڈ سے سرفراز

Hamari Duniya

 بندوق کے ساتھ وزیر اعظم کے اجلاس میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والا شخص گرفتار

Hamari Duniya