33.1 C
Delhi
June 15, 2024
Hamari Duniya
Breaking News مضامین

سالِ نو جشن کا نہیں محاسبے کا وقت ہے

نئے سال

 محمد عظیم فیض آبادی

9358163428
زندگی میں خوشی ومسرت ، فرحت وشادمانی کا اظہار ،مبارکبادی کا تبادلہ کسی نعمت کے حصول یا کامیابی وکامرانی ، ترقی وعروج کے موقع پر ہوتا ہے اسی طرح رنج وغم کا اظہار کسی تکلیف وپریشانی کے وقت یا نعمت کے زوال کے پر اور تنزلی وپستی کاسامنا حسرت وافسوس کا موقع ہوتاہے ۔نئے سال کے اس موقع پر جشن وجلوس، خوشیوں کے شادیانے اور ہفتوں تک چلے والے نئے سال کی مبارک بادی کے سلسلے سے پہلے دینی واسلامی نقطہ نظر سے ایک بار یہ جاننے کی کوشش ضرور کریں اور غور کریں کہ ہمارا طرز عمل اس سلسلے میں کیا ہونا چاہئے ،
گزرتے ہوئے لیل ونہار اور بیتے ہوئے ماہ وسال نے ہماری حیات مستعار کا پورے ایک سال کم کردیا ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ وقت انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے، اسی لئے ایک ایک لمحے کی قدر اور اس کے کارآمد بنانے کی تگ و دو اس کے نفع بخش بنانے کی تدابیر کرنا لوگوں کے ساتھ خیر وبھلائی قوم کی اصلاح کی فکرکرنا دینی فریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ترقی یافتہ قوموں کی علامت ونشانی بھی رہی ہے اور اسکے ضائع ہوجانے پر افسوس اور اس کو ضیاع سے بچانے کی ہر ممکن کوشش ہمیشہ عقلمندوں کا شیوہ اور زندگی کے لمحات کو مفید سے مفید تر بنانےکا حوصلہ وجزبہ رکھنے والوں کا وطیرہ اورزندگی میں کچھ کر گذرنے کا جنون رکھنے والوں کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔
غور فرمائیں کہ انسانی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ، رب ذوالجلال کی بخشی ہوئی سب سے نایاب دولت ونعمت “وقت ” جو شب وروز کے مجموعہ ” سال ” کی شکل میں گذر جائے وہ خوشی ومسرت کے اظہار کا موقع کیسے ہوجائے گا….؟
بلکہ ایک طرح سے یہ ایک نعمت کے زوال ، وقت جیسی پونجی کے ختم ہوجانے ، اور عمر کے ایک بیش قیمتی سال کے کم ہوجانے پر حسرت وافسوس کا وقت تو ہوسکتا ہے مگر خوشی ومسرت کے اظہار کے لئے جشن وجلوس کا نہیں ۔
ہاں سال کے آغاز میں اپنے منصوبوں کی تکمیل اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہنانے ، خیر کےتعلق سے جن امور کی انجام دہی اور بہت کچھ کرگذرنے کا جو عزم مصمم کیا گیا تھا اگر وہ خیر وخوبی کے ساتھ پائے تکمیل کو پہچ گئے ہوں تو اس پر رب ذوالجلال کا شکر بجالانے، اور آئندہ اس سے بہتر طریقے سے انجام دینے کے لئے رب کریم سے توفیق طلب کرنے کا موقع ضرور ہو سکتا ہے اور اس بات کے محاسبہ کرنے کا وقت ہے کہ جن برائیوں بد اعمالیوں سے بچنے اور جن خامیوں کوتاہیوں کو دور کرنے کا عھد وپیمان باندھاتھا اگراس میں کچھ کمی کوتاہی رہ گئی ہوکچھ غفلت ولاپرواہی ہوئی ہو تو اللہ کے حضور توبہ واستغفار کر کاہلی سستی دور کرکے آنے والے دنوں ہفتوں مہینوں اور سالوں کو پوری بیداری کے ساتھ گذارنے کی فکر وتدابیراور اس کے لئے لائحہ عمل طے کرے اور وقتا فوقتا اپنا اپنے اعمال وکردار کا محاسبہ کرتا رہے لایعنی فضولیات سے پرہیز کرکے بےجا جشن وجلوس، اور غیروں کے طرز زندگی سے اجتناب کرےاور ہر وقت اپنی ذمہ داریوں کی حساب دہی کا احساس بیدار رکھے حتی الامکان بےجا اسراف وفضولیات سے بچ بچا کر غریبوں مسکینوں معذورں ، ضرورت مندوں کی خبر گیری اور قوم وملت کی صلاح وفلاح کی بھر پور کوشش کرے اور غیروں کے طرز زندگی اور ان کے مذہبی شعار سے اجتناب کرتے ہوئے جشن وجلوس پر ہونے والی فضول خرچیوں سے اجتناب کرتے ہوئے قوم کی تعلیمی ترقی اور کسی پائیدار وبامقصد کام میں لگائے جو دین ودنیا دونوں جہان کی کامیابی کا ضامن ہوگا۔یہی انسان کی کامیابی اور اس کی ترقی کا راز ہے اور یہی نئے ماہ و سال کا حقیقی پیغام ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو فضولیات ولایعنی سے بچا کر صحیح ڈگر پر چلنے کی توفیق بخشے اور غیروں کے شعار ومذہبی رسومات سے محفوظ رکھے ۔آمین

Related posts

 اے ایم پی راجستھان ایجوکیشن کانفرنس اور چوتھا قومی کنونشن جے پور میں

Hamari Duniya

اس نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندرہونا

Hamari Duniya

گوتم اڈانی دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص بن گئے، اس بڑے بزنس مین کو پیچھے چھوڑ ا

Hamari Duniya