44.1 C
Delhi
June 18, 2024
Hamari Duniya
Breaking News مضامین

ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیں،وہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں

Maulana Liyaqt Qasmi
عبیدالرحمن خان
حضرت مولانا لیاقت علی صاحب  قاسمی دامت برکاتہم جو ایک عالم دین ہی نہیں بلکہ وقت کے تقاضوں اور حالات سے باخبر قومی ملی تعلیمی اجتماعی جدوجہد کے میدانوں میں سرگرم اور بہت ہی فعال اور متحرک شخصیت کے حامل انسان ہیں ان سب باتوں میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ نے باطل کے ایوانوں میں اہل سنت و جماعت کا جھنڈا بلند کیا
مہراج گنج  کے مختلف اجلاس عام کے خطباتِ صدارت اور دیگر کانفرنسوں کی صدارتی و افتتاحی کلمات مولانا کی بیدار مغزی، ژرف نگاہی اور بصیرت افروزی کے عمدہ نمونے ہیں، ان کی قیادت میں مدرسہ جامعہ اسلامیہ دارالسلام اہرولی بہدری بازار میں ایک دینی پروگرام ہوا جو بہت کامیاب رہا اور  تاریخی و مثالی رول ادا کیا ہے، انسانی حقوق کی پاسداری، اور کمزور طبقوں کی تعلیمی و اقتصادی ترقی کے لئے ان کے کام سے مہرا ج گنج کے عوام  کو بڑا وقار اور احترام ملا، ان کے عہد نظامت و صدارت میں مہرا ج گنج کا شاید کوئی مسئلہ ہو، جو حضرت کے توجہ کا  مرکز نہ بنا ہو، وقت کے تمام مسائل اس کے احاطہٴجدوجہد میں رہے ہیں، سیکڑوں دینی، سماجی، فلاحی اداروں کی سرپرستی و رکنیت کا انھیں شرف حاصل ہوا، مولانا لیاقت علی صاحب قاسمی کی شخصیت مختلف شعبہ ہائے زندگی کو محیط اور ملک و بیرونِ ملک میں رہنے والے مسلمانوں کی دینی، ملی رہنمائی، دعوت و تبلیغ، روحانی تربیت سب ان کا محور رہا تاریخِ مہرا ج گنج میں جن شخصیات پر بجا طور پر فخر کرتی ہے، وطنِ مہر ا ج گنج کا ذرہ ذرہ جن کے احسانات کو تسلیم کرتا ہے، باشندگانِ مہر ا ج گنج  جن کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے، علم وعمل کاقافلہ، فکر ونظر کا کارواں کبھی جن کی قافلہ سالاری سے اپنے آپ کو بے نیاز نہیں کرسکتا، مسند درس وتدریس کے اساتذہ، علومِ فقہ وحدیث کے شناور کبھی اس کی نکتہ آفرینیوں سے بے پرواہ نہیں ہوسکتے، تفسیرِ قرآن میں غوطہ زنی کرنے والے کبھی اس کی صدف ریزیوں اور نکتہ سنجیوں سے ناآشنا نہیں رہ سکتے، قومی، ملی درد وکڑھن کے ساتھ میدانِ عمل میں جدوجہد کرنے والے شہسوار، ظلم وستم کے خاتمہ کے لئے تگ ودو کرنے والے، امن وانصاف کے علمبرار جس کو کبھی مہرج گنج کی قوم نظر انداز نہیں کرسکتی، ملکی اور عالمی حالات پر گہری نظر رکھنے والے کبھی اس کی نگاہِ دورس، حکمتِ  عملی اورفراست وتدبر سے کنارہ کش نہیں ہوسکتے، چناں چہ وہ عظیم المرتبت شخصیت میرکارواں، بطلِ حریت، حضرت مولانا لیاقت علی قاسمی مہراگنجی ہیں۔ کمالات کے جامع، خوبیوں کے پیکر حضرت اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں اور اللہ تعالی نے ایک فرد سے تاریخی، انقلابی، پوری ایک جماعت کا عہد ساز کام لے رہا ہے۔ حضرت کی شخصیت پر بے شمار اربابِ علم وفضل نے ان کے دینی کام کو سراہا جس نے نہ صرف مدرسہ جامعہ اسلامیہ دارالسلام اہرولی بہدری بازار میں علم کے موتی لٹائے بلکہ پورے مہرا ج گنج میں اپنی عظمت واہمیت کا لوہا منوایا۔

Related posts

مہاراشٹر میں بلڈوزر کلچر پر اجیت پوار نے لگائی لگام

Hamari Duniya

غیرممالک میں پھنسے ہندوستانیوں کی وطن واپسی کی مہم چلانے والے عابد حسین کی’جوش ٹاک‘ نے عزت افزائی کی

Hamari Duniya

اے ایم یو کے وائس چانسلر کی تقرری کے معاملے نے زور پکڑا

Hamari Duniya