22.8 C
Delhi
February 24, 2024
Hamari Duniya
Breaking News مضامین

مولانا ابولکلام آزاد ۔ایک انجمن، ایک تحریک

Maulana Abul Kalam Azad
حکیم محمد شیراز
سائنسداں و ریڈر شعبہ معالجات
آر آرآئی یو ایم،کشمیر یونیورسٹی ، کشمیر
موبائل:9797750472

اس عنوان پرلکھنے والوں نے بہت لکھا اور آگے بھی لکھتے رہیں گے۔لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ مولانا کے مرکزی وصف کو تلاش کیا جائے۔وہ کیا خصوصیت تھی ، جو مولانا کے دیگر اوصاف کے لیے امّ الصفات کی حیثیت رکھتی ہے؟انسانی ہمدردی (جو بڑھ کر انسانیت نوازی تک پہنچی ہوئی تھی )، غمگساری، بے لوثی، اخلاص و للّٰہیت کا اصل سورج کیا تھا؟ آپ کی شعلہ بیانی، بے باکی کے چشمے کہاں سے ابلتے تھے؟وہ کس کا فیضان نظر تھا ؟وہ کس مکتب کی کرامت تھی جو بڑی سے بڑی جانی و مالی قربانی کے لیے مولانا کو تیار کر دیتی تھی؟وہ کون سی بے چینی تھی جو غلامی کی زنجیروں کے ساز دلبری کوبرداشت نہیں کرنے دیتی تھی؟وہ کون سی چنگاری تھی جو اپنی قوم کے حق میں دشمن کے لیے جوالہ مکھی بن کر سامنے آتی تھی؟وہ کون سا جادو تھا جس کی وجہ سے ممولے شہباز سے لڑنے پر آمادہ ہو جاتے تھے؟
غور و فکر سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ چیزمولانا کی قرآنی بصیرت تھی۔قرآن پاک سے ان کا شغف اور اس سے عظیم نتائج کا استخراج تھا۔چنانچہ خطبات آزاد میں لکھا ہے کہ مولانا نے ایک خطبہ میں حضرت موسیٰ ؑ اور فرعون کا واقعہ بیان فرمایا کہ موسیٰؑ نے اللہ تعالی کے حکم کے مطابق فرعون سے کہا :
اِنَّا رَسُولَا رَبِّکَ فَاَرسِل مَعَنَا بَنِی اِسرَآئِیلَ وَ لَا تُعَذِّبہُم-قَد جِئنٰکَ بِاٰیَةٍ مِّن رَّبِّکَ-وَ السَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الہُدٰی(47)اِنَّا قَد اُوحِیَ اِلَینَا اَنَّ العَذَابَ عَلٰی مَن کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی(48)ترجمہ: ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انہیں تکلیف نہ دے بیشک ہم تیرے رب کی طرف سے ایک نشانی لائے ہیں اوراس پر سلامتی ہو جو ہدایت کی پیروی کرے۔ بیشک ہماری طرف وحی ہوتی ہے کہ عذاب اس پر ہے جو جھٹلائے اور منہ پھیرے۔(سورة طہٰ)
غرض حضرت موسیؑ نے پہلے غلامی سے آزادی کا مطالبہ کیا بعد ازاں اپنی دعوت پیش کی۔معلوم ہوا کہ آزادی کی اہمیت کیا ہے۔بقول شخصی:
عشق و آزادی بہار و زیست کا سامان ہے
عشق میری جان ، آزادی میرا ایمان ہے
عشق پر فدا کروں میں ساری زندگی
مگر آزادی پر میرا عشق بھی قربان ہے
غرض آپ کے خطبات میں ھدایت و نور کے جو سوتے پھوٹتے نظر آتے تھے اس کے پیچھے اللہ کی کتاب کی رہنمائی، نورانیت و روحانیت کا دخل تھا۔ان کے الفاظ کے ساتھ قرآنی آیات کا رس گھلا ہوتا تھا۔بے شک مولانا ان لوگوں میں سے تھے جو سوتی قوموں کو جگاتے ہیں، ممولوں کو شہباز سے لڑاتے ہیں۔قوموں میں انقلاب برپا کرتے ہیں۔اپنی تحریر اور تقریر کے جادو سے لوگوں میں آزادی کا احساس پیدا کرتے ہیں ۔غلامی کے خلاف پا با رکاب کرتے ہیں۔جانی و مالی ہر قسم کی قربانی کے لیے لوگوں کو تیار کرتے ہیں۔اپنی دینی حمیت اور اسلامی غیرت کے سبب نہ کبھی بکتے ہیں نہ کسی کو بکنے دیتے ہیں با لفاظ دیگر نہ ضمیر فروش ہوتے ہیں نہ ضمیر فروشی کوگوارہ کرتے ہیں۔حمایت سے آگے بڑھ کر حمیت سے کام لیتے ہیں ۔ بڑی بڑی مدتوں کے لیے جیل جا کر جیل جانے کو ہنسی مذاق بنا دیتے ہیں اور اسے سنت یوسفی ؑ سمجھ کر خوش دلی سے گوارہ کرتے ہیں۔اس کے لیے اپنا گھر بار، بیوی بچے، وطن ہر کسی کی قربانی دیتے ہیں۔
”ترجمان القرآن“ ان کے انشاءکا بھرپور مظہر ہے، چونکہ مولانا ایک صاحب قلم تھے تاہم جہاں تک اصول تفسیر کا تعلق ہے تو وہ ائمہ تفسیر ہی کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں اور بہت کم کوئی ایسی رائے قائم کرتے ہیں جو اسلاف کی رائے کے برخلاف ہو۔ مولانا کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کو اپنے عہد میں ایک زندہ کتاب کے طور پر پیش کیا ہے جو مسلمانوں کے لیے واحد راہنما ہو سکتی ہے۔ چونکہ وہ سیاسی میدان میں منہمک تھے، اس لیے مکمل قرآن کی تفسیر نہیں کرسکے تھے۔ ترجمان القرآن تفسیر سورةبنی اسرائیل تک ہے، زیادہ تر ترجمہ اور مختصر حواشی ہیں، حواشی اختصار کے باوجود جامع ہیں؛ البتہ سورةفاتحہ کی تفسیر کا حصہ بہت ہی مبسوط اور مفصل ہے اور گویا قرآن مجید کے مقاصد کا خلاصہ اور خود مولانا آزاد کے بہ قول قرآن کا عطر اور نچوڑ ہے۔
پہلی شخصیت جس کے ادب سے راقم کے ذہن و ضمیر کو اطمینان و آسودگی ملی جس سے قربانی، اعتماد و اعتزاز ، عالی ہمتی، بلند نظری اور وفور جذبات کی نئی خوراک ملتی تھی ، اور جسے پڑھ کر یہ محسوس ہوتا تھا کہ رگوں میں خون کی رفتار تیز ہو گئی ، بدن میں جیسے چیونٹیاں رینگنے لگیں ، شعور و افکار میں حرکت پیدا ہو گئی اور امیدوں اور آرزوو¿ں کو نئی زندگی ملی ، وہ مولانا آزاد او ران کا ادب تھا۔وہ محمد ﷺ کے پیغام کی ابدیت اور ہر دور میں اس پیغام کے حاملین میں قیادت کی صلاحیت پر ایمان رکھتے تھے، انھوں نے مغربی تہذیب و تمدن کی عظمت و قوت کو کبھی تسلیم نہیں کیا، بلکہ اس کے بڑے بڑے رہنماو¿ں اور نمائندوں چیلینج کیا۔ساری زندگی مغربی لوگوں سے نیز ان کی تہذیب سے بر سر پیکار رہے۔
مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہندی اہل قلم کے اسلوب تحریر اور طرز فکر میں مولانا آزاد کے اسکول نے بہت اثر ڈالا ہے، اس لیے کہ مولانا جب میدان سیاست میں آتے تو استعماری طاقتوں پر جرات و ہمت کے ساتھ تنقید کرتے اور ان پر سخت حملے کرتے، نہ سزاو¿ں اور دھمکیوں سے ڈرتے نہ قید و بند اور ملک بدر ہونے کو خاطر میں لاتے، جب مغربی تہذیب کو موضوع بناتے ، یا سیاسی نظام ، اقتصادی فلسلفوں اور عمرانی علوم پر لکھنے بیٹھتے تو ان کے قلم کی جولانی ااور جوش میں اضافہ ہو جاتا ، زبان سے شعلے نکلتے، اسلوب میں طاقت پیدا ہو جاتی، ان کی تحریروں سے یہ چھلکنے لگتا کہ اسوہ نبی ﷺ ہی ہر چیز میں مثالی نمونہ ہے، اور ترقی کا اعلیٰ معیار یہ ہے کہ کسی طرح ان کی نقل کی جائے۔مغربیت کا کمال اس میں ہے کہ وہ چاند پر پہنچ جائے اور ہمارا کمال اس میں ہے کہ نبیﷺ کی اتباع کرتے کرتے صحابہ ؓ کی صفوں سے جا ملیں۔کوئی امتیاز باقی نہ رہے ان میں اور ہم میں۔
جب مجھے ’غبار خاطر‘’انڈیا ونس فریڈم‘ او’ر ترجما ن القرآن ‘مطالعہ کے لیے ملے تو مجھے لگا جیسے میری کوئی عزیز اور کھوئی ہوئی چیز واپس مل گئی، یا میں نے کوئی نیا انکشاف کیا، ان کتابوں کا مصنف(مولانا آزاد) اس معذرت خواہانہ اسلوب سے آزاد تھا،جسے ایک مدت سے مسلمان اہل قلم نے اپنا شعار بنا رکھا تھا، اس نے دفع کے بجائے حملے کا انداز اختیار کیا، اور مغربی افکار کے بارے میں آنکھوں میں آنکھ ڈال کر ، اور ان آزاد ناقدین کی سطح سے گفتگو کی تھی، جن پر کسی سماج ، ثقافت، سیاست یا مصلحت کا دباو نہ ہو، جن کی بحث و تحقیق کی غرض و غایت صرف حقیقت کی تلاش ہو، اور جنھوں نے مغربی تہذیب و تمدن کو صرف کتابوں میں نہ پڑھا ہو، بلکہ اس میں زندگی گزار کر اور اس کو برت کر دیکھا ہو، مسیحیت اور یونانی و رومی تمدنوں کا وسیع و عمیق مطالعہ کیا ہو، جدید اقتصادی اور اجتماعی فلسلفوں اور نظریات کو جانچا اور پرکھا ہواور مغربی تہذیب اور اس کے طویل تجربات کی تحلیل اور تجزیہ کر سکتا ہو۔
ان کتابوں میں میرے لیے سب سے زیادہ مو¿ثر اور جاذب نظر و قلب جو چیز تھی وہ مصنف کا اپنے دین کی صلاحیت ، اس کی برتری اور اس کی ابدیت پر ایمان ، اور یہ کہ یہی ایسا پیغا م ہے جس میں نوع انسانی کی سعادت و کامرانی کی ضمانت ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ آج کے حالات میں بھی جب کہ قدیم و جدید میں شدید رقابت ہے۔اسلافِ امت کے طرز و فکرکو دور حاضر کے لوگ لغو قرار دے رہے ہیں۔آستین کے سانپ ، فرقہ پرست طاقتوں کی جی حضوری میں اردو اور اسلامی تہذٰب و ثقافت کو مٹانے کے درپے ہیں، اس بات کی ضرورت ہے کہ قرآن پاک کو راہ نما بنایا جائے۔قرآن و حدیث کی روشنی امت مسلمہ کو اندھیروں سے نکالنے میں معاون ہو سکتی ہے اور زخموں کا مرہم بن سکتی ہے۔خصوصاً ایسے وقت میں جب کہ دشمنان اسلا م قرآن پاک کے احکامات میں تحریف اور تاویل کے متمنی ہیں ضروری ہے کہ اس کے احکامات پر من و عن عمل کیا جائے اور مضبوطی سے اس کی ہدایات کو تھاما جائے۔

Related posts

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا مسلم پرسنل لا بورڈ کے پیغام کو گھر گھر تک پہنچانے کا عزم

Hamari Duniya

بورس جانسن پھر بنیں گے برطانیہ کا وزیراعظم، لیکن راہ آسان نہیں

Hamari Duniya

مولانا ارشدمدنی کی دوٹوک، ہم ایسے مدارس کی قطعی حمایت نہیں کریں گے

Hamari Duniya