0.5 C
New York
فروری 3, 2026
Articles مضامین

منوج جادھو کا حج کمیٹی کے ایگزیکٹو آفسیر عہدے پر فائز ہونا ایکٹ کی کھلی خلاف ورزی ہے

گزشتہ ایک برس سے حج کمیٹی میں غیر مسلم سی ای او کا تقرر، ملی و سیاسی قائدین سنسان گلیوں میں گم
✍️ سلیمان شاہین
فریضہ حج اسلام کا ایک اہم رکن ہے جس کی ذمہ داری ایک غیر مسلم کے ہاتھوں سونپنا مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ بھارت سے حج کا سفر آزادی سے پہلے سے جاری ہے۔ بعد ازاں حج کے انتظام کو منظم کرنے کے لیے حج کمیٹی قائم کی گئی اور سن 2002 میں پارلیمنٹ کے ذریعے حج کمیٹی آف انڈیا ایکٹ منظور ہوا، جس کے تحت پورے ملک میں حج کے انتظامات کی ذمہ داری مرکزی اور ریاستی حج کمیٹیوں کے سپرد کی گئی۔ اسی ایکٹ کی بنیاد پر مہاراشٹر اسٹیٹ حج کمیٹی قائم ہوئی، جو گزشتہ پینتیس برسوں سے اپنے فرائض انجام دیتی آ رہی ہے۔
لیکن حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ فروری 2025 میں پہلی بار مسلمانوں کے اس اہم ترین فریضے سے وابستہ ادارے کی باگ ڈور ایک غیر مسلم افسر کے ہاتھ میں دے دی گئی۔ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا، بلکہ ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر ایک خاتون افسر میگھنا شندے کا تقرر کیا گیا اور ساتھ ہی سیکشن آفیسر کے طور پر دوسری خاتون خدیجہ نائکواڑے کو مقرر کیا گیا۔ اسلام محرم اور غیر محرم کے واضح اصولوں کا پابند ہے اور مخلوط نظام سے اجتناب کی تعلیم دیتا ہے۔ اسی بنیاد پر خود سعودی حکومت کی ہدایات کے مطابق حج کمیٹی کے دفاتر میں بھی مرد و خواتین کے لیے علیحدہ انتظامات کیے جاتے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ تقرریاں شریعت کے اصولوں سے متصادم نہیں ہیں؟ اور کیا یہ ہمارے مذہبی معاملات میں کھلی مداخلت نہیں سمجھی جائیں گی؟ خاتون افسر کا حج ہاؤس کی مسجد میں بے ادبی سے داخل ہونا وہاں گفتگو کرنا ملی حمیت رکھنے والے چند سنجیدہ قسم کے افراد کو نہایت ہی گراں گزرا جس پر انھوں نے احتجاج کیا جس کے بعد
حکومت نے پھر سے غیر مسلم شخص کرن کمار واہولے کو ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا، اور پھر اب ان کے انتقال کے بعد منوج جادھو کو یہ ذمہ داری سونپ دی گئی۔ حالانکہ حج کمیٹی آف انڈیا ایکٹ 2002 کے مطابق ریاستی حج کمیٹی کا ایگزیکٹو آفیسر ترجیحی طور پر مسلمان ہونا چاہیے اور ڈپٹی سیکریٹری درجے کا افسر ہونا چاہیے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پورے مہاراشٹر میں ایک بھی مسلم آفیسر اس معیار پر پورا نہیں اترتا؟ اگر ایسا کوئی افسر موجود ہے تو فروری 2025 سے اب تک اس کی تقرری کیوں نہیں کی گئی؟ اور اگر موجود نہیں تو کیا یہ خود حکومت کی پالیسی کی ناکامی کا ثبوت نہیں ہے؟
یہ بھی ایک سنجیدہ سوال ہے کہ کیا حکومتِ مہاراشٹر دانستہ طور پر مسلمانوں کے مذہبی اداروں میں غیر متعلقہ تقرریوں کے ذریعے ایک خاص منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہے، مسلمانوں کے مذہبی معاملات غیر مسلموں کے سپرد کرکے حکومت مسلمانوں کے دینی تشخص پر حملہ کرنا چاہتی ہے؟ یا واقعی اس ریاست میں قابل مسلم افسران کا فقدان ہو چکا ہے؟ کیا ہم نے اپنے فریضۂ حج میں اس قسم کی مداخلت برداشت کر لینی چاہیے؟
اس سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے ملی، سماجی اور خصوصاً سیاسی قائدین جو اتحاد اور مسلمانوں کے حقوق کی باتیں کرتے نہیں تھکتے، اس معاملے پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، وہ کون سی سنسان گلیوں میں گم ہو گئے ہیں جہاں سے انہیں یہ سب دکھائی نہیں دے رہا ہے یا پھر جان بوجھ کر نظر انداز کیئے جا رہے ہیں؟
میری نظر میں اگر اقلیتی امور کے شعبے میں کوئی مسلم افسر دستیاب نہیں تو دیگر محکموں سے کسی اہل مسلم افسر کا انتخاب کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ پہلے سیکشن آفیسر کے تقرر کے وقت کیا گیا تھا۔ اگر اس درجے کا مسلم افسر دستیاب نہیں تو کسی کم درجے کے مسلم افسر کو اضافی چارج دیا جا سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں حکومت کا معمول رہا ہے۔ مزید یہ کہ حکومتِ مہاراشٹر کے 2016 کے جی آر کے مطابق ریٹائرڈ افسران کو کانٹریکٹ پر دوبارہ ذمہ داریاں دی جا سکتی ہیں، جیسا کہ اورنگ آباد کے حج ہاؤس میں دو لوگوں کو دیا گیا۔ اسی اصول کے تحت ان ریٹائرڈ مسلم افسران کو بھی موقع دیا جا سکتا ہے جو پہلے ریاستی حج کمیٹی میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔
جب پہلی مرتبہ اس عہدے پر ایک غیر مسلم خاتون کو فائز کیا تھا تب بھی کئی سنجیدہ و ملی حمیت رکھنے والے افراد نے آواز اٹھائی تھی، حج ہاؤس کی مسجد میں خاتون افسر کا بے ادبی کے ساتھ آجانا اور وہاں اپنی گفتگو کرنا سنجیدہ افراد کو نہایت ہی گراں گزرا تھا جس پر چند لوگوں کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا تھا بعد ازاں ان کی جگہ دوسرے افسر کرن کمار واہولے کو لایا گیا جو کہ غیر مسلم ہی تھے اور اب منوج جادھو کو تھوپا گیا، اس کے خلاف مسلم سیاسی و ملی قائدین نے بھر پور آواز اٹھانی چاہئے اور کسی مسلم افسر کا تقرر کروانے تک خاموش نہیں رہنا چاہئے ورنہ اسی طرح چلتا رہا تو آگے مرکزی و بڑے عہدوں پر بھی غیر مسلم افسران کا تقرر ہوتا رہے گا جو اس اہم فریضہ کی بنیادوں کو ہلانے میں بڑا کردار اد کرسکتے ہیں۔ ہم اس کے خلاف اپنی کاوشوں کو جاری رکھیں گے اور جو بھی قانونی چارہ جوئی ہوسکتی ہے کرنے سے گریز نہیں کریں گے لیکن ہم ان تمام احباب سے گزارش بھی کریں گے جو کچھ نہ کچھ اثر رسوخ رکھتے ہیں کہ وہ آگے آئیں اور حج کمیٹی کو محفوظ ہاتھوں میں رکھنے کے لیے اپنی آواز بلند کرے

Related posts

سعودی عرب میں ملازمت کرنا ہوا مزید آسان، ’کفالہ نظام‘ ختم

admin@hamariduniyanews.com

سال 2025: اصلاحات کا سال، بقلم: نریندر مودی، وزیراعظم ہند

Hamari Duniya News

سعودی عرب میں ملازمت کرنا ہوا مزید آسان، ’کفالہ نظام‘ ختم

admin@hamariduniyanews.com