نئی دہلی، 16 فروری: رشک عرفی و فخر طالب مرزا اسد اللہ خاں غالب کے یوم وفات کے موقع پر انجمن ترقی اردو (دہلی) نے غالب انسٹی ٹیوٹ و غالب اکیڈمی کے اشتراک سے ’یوم غالب‘ کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد، انجمن ترقی اردو (دہلی) کے صدر جناب اقبال مسعود فاروقی، غالب اکیڈمی کے سکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد، پروفیسر شہپر رسول اور اردو کے کئی ریسرچ اسکالرس نے مزار غالب پر گل پوشی اور فاتحہ خوانی کی۔ دوپہر تین بجے ایوان غالب میں مذاکرے کا انعقاد ہوا جس کی صدارت پروفیسر علی احمد فاطمی نے کی۔ انھوں نے کہا مجھے فراق گورکھ پوری سے بارہا ملاقات کا موقع ملا۔ ایک مرتبہ میں نے ان سے پوچھا آپ زیادہ تر میر کا ذکر کرتے ہیں غالب پر صرف ایک مضمون لکھا اس کی وجہ کیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا میر دل کا شاعر ہے اور غالب دماغ کا۔
غالب کی شاعری پڑھو تو دماغ سانسیں لینے لگتا ہے۔ مجھے خوشی ہوئی کہ شائستہ یوسف کے ناول ’صدیوں کا رقص‘ میں بھی زندگی کو جینے اور اس کے چیلنجز کو قبول کرنے کا وہی رویہ بھی ملتا ہے جو غالب کی شناخت ہے۔ انجمن ترقی اردو (دہلی) کے صدر جناب اقبال مسعود فاروقی نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا ایک زبان سرکاری ہوتی ہے اور دوسری عوامی۔ انگریزوں کے زمانے میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ ملا لیکن آج اردو کو یہ سہولت حاصل نہیں ہے اس کو اپنی بقا کے لیے جد و جہد کرنا پڑ رہی ہے اور اس مرحلے میں انجمن ترقی اردو (دہلی) اس کے ساتھ ہے۔
ڈاکٹر خالد علوی نے کہا میں نے غالب کی مقبولیت کا جو عالم دیکھا وہ شاید ہی کسی شاعر کو نصیب ہوا ہو۔ کلکتہ میں ایک شخص اپنے جیب خرچ سے دیواروں پر رومن رسم خط میں غالب کے اشعار لکھتا تھا وہ پیشے سے پینٹر تھا۔ میں جب تاشقند گیا تو حیرانی ہوئی کہ وہاں غالب کے نام سے محلہ، سڑک اور ایک مسجد بھی موجود ہے۔ اس موقع پر محترمہ شائستہ یوسف کے ناول ’صدیوں کا رقص‘ کی رسم رونمائی بھی ہوئی۔ محترمہ شائستہ یوسف نے کہا صدیوں کا رقص انسانی تاریخ کا حوالہ ہے میں نے جب آنکھ کھولی اور اس دنیا کو دیکھا تو ذہن میں یہ سوال ابھرے کہ یہ دنیا کیا ہے، زندگی کیا ہے،؟ میں نے اپنے اس ناول میں بھی انھیں سوالوں کو دریافت کرنے کی کوشش کی ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے کہا آج اردو کے عظیم شاعر مرزا اسد اللہ خاں غالب کا یوم وفات ہے اور انجمن ترقی اردو دہلی شاخ، غالب انسٹی ٹیوٹ اور غالب اکیڈمی ایک زمانے سے یوم غالب کا انعقاد کرتے آ ئے ہیں۔
غالب کو یاد کرنا بظاہر ایک رسم ہے لیکن اس رسم کی وابستگی بھی ہمیں اپنے علمی سرمائے اور دانشورانہ روایت سے جوڑتی ہے اور ہمیں تازہ دم رکھتی ہے۔مذاکرے کے بعد طرحی مشاعرہ منعقد ہوا جس کی صدارت جناب وقار مانوی نے کی اور جناب متین امروہوی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ نظامت کا فریضہ ممتاز محقق اور شاعر ڈاکٹر عمیر منظر نے ادا کیا۔ جناب ظفر مرادآبادی، جناب اقبال فردوسی، ڈاکٹر احمد امتیاز، جناب صہیب احمد فاروقی، محترمہ آشکارہ خانم کشف، جناب شاہد محمود اور محترمہ چشمہ فاروقی نے کلام پیش کیا۔
مشاعرے کے بعد شام غزل کا اہتمام ہوا۔ جناب اکرام مرزا نے تعارف پیش کیا اور محترمہ ریکھا کالوے نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ اس موقع پر جناب کاشف نظامی اور ان کے ہمنوا نے غالب اور دیگر شعرا کا کلام پیش کر کے پروگرام کو یادگار بنایا۔
