33.1 C
Delhi
July 15, 2024
Hamari Duniya
Breaking News قومی خبریں

مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت دو حصوں میں تقسیم

الزام تراشی کا سلسلہ شروع،تنظیم کے ایک گروپ نے میڈیا پر الزامات عائد کیے۔:

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (رجسٹرڈ) مسلمانوں کی وہ واحد تنظیم ہے،جس میں علماء،وکلاء،دانشوران قوم،ڈاکٹرز،انجینیئر ،سابق ممبران پارلیمنٹ اور صحافی وغیرہ عہدہ داران اور ملک کی ہر ریاست سے بلا مسلک و مشرب نمایندگی رہی ہے ۔یہ تنظیم مسلمانوں کے پیچیدہ مسائلکو اٹھاتی رہی ہے اور مسلم طلباء وطالبات کی حوصلہ افزائی کرتی رہیہے:ڈاکٹر ظفر الاسلام خان

نئی دہلی:14جون(ایچ ڈی نیوز) ہندوستانی مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ جب جب نئی حکومت کا قیام ہوا ہے، تب تب مسلم تنظیموں میں انتشار کے باعث تقسیم کا سلسلہ شروع ہوتا رہا ہے، جس سے مسلمانوں کی اجتماعیت کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے،حال ہی میں مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا مجلس مشاورت میں بھی اسی طرح کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ تنظیم کے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم رجسٹرڈ ہے، جبکہ دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ یہ بلا وجہ کی یہ شاطرانہ چال ہے،جسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ کا مدعاء بنا کر چند ممبران کی موجودگی میں صدر کا انتخاب غیر آئینی طریقہ سے کیا گیا ہے۔ایک گروہ کے صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ کی پریس ریلیز کے مطابق کہ انہیں(فیروز احمد ایڈوکیٹ)2022 میں باقاعدہ صدر منتخب کیا گیا تھا, جس میں سینکڑوں کی تعداد میں ملک بھر سے دانشوران قوم نے شرکت کی تھی،اب گزشتہ نو جون 2024 کو سابق صدر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے ایک میٹنگ کر کے اپنے آپ کو صدر منتخب کیا ہے اور رجسٹرڈ/ غیر رجسٹرڈ کا فتنہ برپا کیا ہے جو لائق مذمت ہے . انہوں نے کہا کہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے نام اور ساکھ پر قبضہ کرنے کی کوشش ہے۔مشاورت کےصدر فیروزاحمدایڈوکیٹ نے کہا کہ 11جون 2024کو شائع کی گئی ڈاکٹرظفرالاسلام خاں کی پریس ریلیز فتنہ پروری کی بدترین مثال ہے اوروہ اس پراپنا سخت احتجاج درج کراتے ہیں کہ کچھ اخباروں اورسوشل میڈیا پلیٹ فارموں نے ان کےسراسربے بنیاد اور غیرقانونی دعووں کو یک طرفہ طور پر بغیر کسی تحقیق و تفتیش کےشائع کیا جس سے ارکان و ہمدردان مشاورت میں غلط فہمیاں اوربےچینی پھیلی۔ انہوں نے کہاکہ مشاورت جیسی معروف ، معتبر اور باوقارتاریخی تنظیم کے تعلق سے یہ رویہ کسی بھی صورت میں مناسب نہیں ہےکہ کسی نے اس کو شائع کرنے سے پہلے مشاورت کے دفتر سے رابطہ کرنے کی زحمت تک گوارانہیں کی۔انہوں نے کہا کہ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں مشاورت(رجسٹرڈ) کا صدر منتخب کیے جانے کے دعویٰ کے ساتھ ایک فرضی رجسٹرڈ ایڈریس اور اپنے گھر کے پتے کا استعمال کرکے ایک غیرقانونی متوازی مشاورت بنانے اور مشاورت کے رجسٹریشن اور ملت کےایک گرانقدرورثے پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔ 9جون 2024کو نیوہورائزن اسکول(بستی حضرت نظام الدین،نئی دہلی) میں طلب کردہ ظفرالاسلام خاں کی میٹنگ میں مشاورت کے کل 150ارکان میں سے صرف 11ممبران شریک تھے اوران کے علاوہ کچھ سابق ارکان اوران کےکچھ دوست ورفقائےکار تھے۔جن کی کل تعداد 30 کے آس پاس تھی ۔ارکان کی اتنی تعداد تو مشاورت کی مجلس عاملہ میں ہوتی ہے۔۔انہوں نے کہا کہ مشاورت کے رجسٹریشن اور اس پر ان کے دعوے کا سوال تو اس سلسلے میں ہم سخت تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ وضاحت اوریاددہانی ضروری ہے کہ سن2000ء میں مشاورت کی مجلس انتخاب کے ذریعے ملک کے مشہور ملی قائد ، سابق رکن پارلیمنٹ مرحوم سید شہاب الدین کو مشاورت کا صدر منتخب کرنے پر ایک گروپ نے مشاورت سے نکل کر مولانا محمد سالم قاسمی مرحوم کی قیادت میں متوازی مشاورت بنالیا تھا اور اسی گروپ نے2003میں سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ کے تحت اس کا رجسٹریشن کرایا تھا(اس پر صدرمشاورت سید شہاب الدین مرحوم نے رجسٹرارآف سوسائٹیز کوجوخط لکھا تھا۔ 2012ء میں مولانا محمد سالم مرحوم نے اس گروپ کی قیادت جاری رکھنے سے منع کردیا اور اس کے ارکان کو اصل مشاورت میں شامل ہوجانے کی ہدایت دی۔ ایک طویل روداد کے بعد اس گروپ کے ارکان کی اکثریت نے انضمام کی تائید کی کیونکہ اس گروپ میں کئی افراد صدارت کے دعویدار تھے اور ان میں اتفاق رائے نہیں ہوسکی تھی۔نومبر2013ء اس کے مشاورت میں انضمام کا باضابطہ اعلان ہوا، جس کے لیے پریس کانفرنس بلائی گئی تھی۔مولانا سالم مرحوم نے اس گروپ کے سارے کاغذات مشاورت کے سپرد کردئے اور رجسٹرار آف سوسائٹی کو اطلاع بھیج دی کہ ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں مشاورت کے صدر منتخب کرلیے گئے ہیں، جو 2015-2014 کی میعاد کے لیے اصل مشاورت کے صدر منتخب کیے گئے تھے۔ مولانا سالم مرحوم اور رجسٹرارآف سوسائٹی کے درمیان اس پرانے خط و کتابت کو مشاورت کے نام اور اس کی ساکھ کو ہتھیانے کے لیے ڈاکٹر ظفر الاسلام خان استعمال کررہے ہیں، جس میں انہیں ہرگزکامیابی نہیں ملےگی۔ادھر دوسرے گروہ کے منتخب صدر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کہا کہ مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت آئین اور جمہوریت کو بچانے میں اہم کردار نبھا رہی ہے۔ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کی پریس ریلیز کے مطابق ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (رجسٹرڈ) کی جنرل باڈی کا اجلاس گزشتہ اتوار کو نیو ہورائزن اسکول، حضرت نظام الدین، نئی دہلی میں منعقد ہوا، جس میں ملک بھر سے سرکردہ اراکین اور عہدیداروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو متفقہ طور پر دو سال کے لیے مشاورت کا صدر منتخب کیا گیا اور انہیں باہمی مشاورت سے مشاورت کا آئین تیار کرنے کا اختیار دیا گیا، جس کی منظوری آئندہ جنرل باڈی کے اجلاس میں دی جائے گی۔اس موقع پر اہم قومی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور منظور کردہ قراردادوں میں کہا گیا کہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی جنرل باڈی گزشتہ عام انتخابات کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتی ہے اور ان ووٹروں کو مبارکباد پیش کرتی ہے جنہوں نے نفرت کی سیاست کرنے والوں کو مسترد کر دیا۔ ان نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ ملک میں اب بھی سیکولر لوگوں کی اکثریت ہے اور آئین کی بالادستی قائم ہے، اس لیے انتخابات کے دوران مسلمانوں نے ملک میں آئین اور جمہوریت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے، اس لیے سیکولر جماعتیں مسلمانوں کے مسائل کی بات کر رہی ہیں ۔قرارداد میں کہا گیا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود نفرت پھیلانے والوں کو صرف چالیس فیصد ووٹ ملے ہیں اور ساٹھ فیصد ووٹروں نے نفرت کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (رجسٹرڈ) نے اس موقع پر سیکولر سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے اختلافات بھلا کر ملک کے وسیع تر مفادات کے لیے اپنا اتحاد قائم کریں اور ملک کو حقیقی جمہوریت کی طرف لوٹائیں۔ دوسری قرارداد میں کہا گیا کہ مشاورت مسلمانوں کو قومی دھارے سے دور کرنے کے ایجنڈے کی مذمت کرتا ہے اور مسلمانوں کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ نفرت کی سیاست کو قومی مفاد میں کامیاب نہ ہونے دیں۔مشاورت نے پچھلے دس سالوں میں مسلمانوں کو سیاسی طور پر حق رائے دہی سے محروم کرنے اور پسماندہ کرنے کی کوششوں کی مذمت کی ہے۔ ملک کے مسلمانوں کو گائے کے ذبیحہ،لو جہاد، مذہب کی تبدیلی وغیرہ جیسے خیالی مسائل کو اٹھا کر ان پر ہجوم کا تشدد کیا گیا، جسے مسلمانوں نے صبر سے برداشت کیا اور جوابی کارروائی سے گریز کیا تاکہ انتظامی مشینری کو مسلمانوں پر مزید مظالم کرنے کا موقع نہ ملے۔ لیکن یہ کافی نہیں ہے، مسلمانوں کو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کی ضرورت ہے، قرآن سے جڑنے کے ساتھ ساتھ معاشروں کی مادی ترقی کے لیے درکار تمام وسائل کو اپنانے کی ضرورت ہے۔جس میں تعلیمی ترقی اور کاروبار سب سے اہم ہیں۔مشاورت نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بڑھتے ہوئے ظلم و ستم کو روکنے کے لیے قانونی طریقے اختیار کریں اور انصاف کے حصول تک قانونی جدوجہد پر توجہ دیں اور متاثرین کے اہل خانہ کی مدد کریں۔جنرل باڈی کے اجلاس میں غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی کی مذمت کے ساتھ ساتھ اس معاملے میں مسلم ممالک کی مجرمانہ خاموشی کی بھی مذمت کی گئی۔مشاورت نے ملک کے انصاف پسند عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قتل عام اور فلسطین پر برسوں سے جاری اسرائیلی قبضے کی مذمت کریں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے بحران کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب فلسطینیوں کو اپنے ملک میں آزادی اور سیاسی خود مختاری کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملے۔ بھارتی حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ غزہ میں نسل کشی روکنے کے لیے اپنے اختیارات استعمال کرے۔ اس معاملے میں اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے کردار کو بھی سراہا گیا ہے۔ میٹنگ کے اہم شرکاء میں سابق راجیہ سبھا ممبر محمد ادیب، عبدالخالق (سابق ایم پی آسام)، خواجہ محمد شاہد، ڈاکٹر بصیر احمد خان، عبدالعزیز (کلکتہ)، محترمہ عظمیٰ ناہید (ممبئی)، ڈاکٹر ظفر الاسلام خان، مفتی عطا الرحمن قاسمی، پروفیسر محمد سلیمان (کانپور)، کمال فاروقی، محمد وزیر انصاری (آئی پی ایس ریٹائرڈ)، ڈاکٹر سید مہر الحسن (بھوپال)، قاضی زینوالساجدین (شہر قاضی میرٹھ)، پروفیسر۔ عرشی خان (علی گڑھ)، ڈاکٹر کوثر عثمان، ایڈوکیٹ ندیم صدیقی (لکھنؤ)، حسیب احمد (سابق ممبر سکریٹری این سی ٹی ای)، عبدالبتن کھانڈیکر (ایم ایل اے آسام)، شبیہ احمد، محمد ندیم صدیقی، ابرار احمد مکی، شاہد شریف شیخ۔ ، اخلاق حسین چشتی، حافظ منظور علی خان، محمد اقبال الظفر، سعود الحسن ندوی (غازی پور)، ایڈووکیٹ سکندر حیات خان، محمد جمیل الرحمن (ممبر اسمبلی مالیرکوٹلہ)، صحافی معصوم مرادآبادی، سید تحسین احمد، محمد شمس الزہاء، ڈاکٹر سید۔ احمد خان، فیروز خان غازی ایڈووکیٹ، سہیل انجم اور ڈاکٹر جاوید احمد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے ممبران نے بھی زوم کے ذریعے اس میٹنگ میں شمولیت اختیار کی۔اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں گروہ میں اتفاق ہوتا ہے یا ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں ہی لگے رہیں گے اور قوم کو برباد کرنے میں اہم کردار نبھاتے رہیں گے۔

Related posts

انتخابی ریلی کے دوران قاتلانہ حملے میں سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ زخمی،حملہ آور ہلاک

Hamari Duniya

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی مستقل وائس چانسلر کی تقرری سے محروم

Hamari Duniya

مولانا محب اللہ ندوی کی شاندار فتح پر مبارکباد کا کا سلسلہ جاری

رامپور لوک سبھا سیٹ سے کامیاب مولانا محب اللہ ندوی جامع مسجد پارلیمنٹ کے امام وخطیب ہیں ۔:

Hamari Duniya