5.5 C
New York
فروری 27, 2026
Regional News علاقائی خبریںTop News

جالنہ میں’21ویں صدی کا خواتین ادب‘ پر ایک روزہ قومی کانفرنس کا شاندار انعقاد

قومی کانفرنس
اردو نے ہمیشہ خواتین ادب کو عزت و احترام دیا ہے: سید حسین اختر
خواتین قلم کاروں کی ادبی خدمات پر سنجیدہ مکالمہ، مختلف زبانوں کے ماہرین کی شرکت
جالنہ، 27 فروری (نمائندہ کے ذریعہ):اردو ادب کی روشن روایت اور اس کے وسیع و ہمہ گیر مزاج کو اجاگر کرتی ہوئی ایک روزہ قومی کانفرنس بعنوان “21ویں صدی کا خواتین ادب” کا شاندار انعقاد راشٹرماتا اندرا گاندھی آرٹس کامرس اینڈ سائنس کالج میں عمل میں آیا۔
اس قومی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی کے چیئرمین سید حسین اختر نے کہا کہ اردو ادب نے ہمیشہ خواتین قلم کاروں کو عزت، وقار اور مساوی مقام عطا کیا ہے۔انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ اردو کا ادبی سرمایہ صرف مرد قلم کاروں تک محدود نہیں رہا بلکہ خواتین اہلِ قلم نے بھی ہر دور میں اردو ادب کو فکری، تخلیقی اور تحقیقی سطح پر مضبوط کیا ہے۔ سید حسین اختر نے کہا کہ مہاراشٹر میں اردو ادب کے فروغ کے لیے جو سہولتیں مردوں کو فراہم کی جاتی ہیں، وہی سہولتیں خواتین قلم کاروں کے لیے بھی دستیاب ہیں، کیونکہ اردو ادب کی ترقی صنفی تفریق کے بغیر ممکن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 21ویں صدی میں خواتین ادب کو درپیش مسائل، امکانات اور نئے رجحانات پر غور و فکر وقت کی اہم ضرورت ہے اور ایسی کانفرنسیں نہ صرف خواتین قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں بلکہ نئی نسل کو ادبی میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی دیتی ہیں۔
اس اجلاس کی صدارت ادارے کے ذمہ دار ست سنگ منڈے نے کی۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ان کا ادارہ تمام زبانوں کو یکساں اہمیت دیتا ہے، اسی فکر کے تحت اردو، مراٹھی، ہندی اور انگریزی زبانوں میں خواتین ادب کے موضوع پر یہ قومی کانفرنس منعقد کی گئی ہے، جس کا بنیادی مقصد 21ویں صدی میں خواتین کے ادبی کردار کو نمایاں کرنا ہے۔استقبالیہ خطاب میں کالج کی پرنسپل ڈاکٹر سنندہ تڑکے نے کہا کہ ان کا ادارہ بلا لحاظ مذہب و ملت اور زبان، سبھی کو مساوی تعلیمی و ادبی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے ریاست کے مختلف حصوں سے تشریف لانے والے ادبا، محققین اور دانشوروں کا تہہ دل سے استقبال کیا۔کانفرنس کی کنوینیر ڈاکٹر عالیہ کوثر نے کانفرنس کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ خواتین ادب کو عصری تناظر میں سمجھنا اور اس کی فکری جہتوں کو اجاگر کرنا ہی اس علمی نشست کا بنیادی مقصد ہے۔
اردو سیشن میں ڈاکٹر سلیم محی الدین نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے تانیثیت اور تانیسی ادب پر مفصل روشنی ڈالی اور مختلف ادوار میں خواتین کی ادبی خدمات کو حوالوں کے ساتھ پیش کیا۔ اسی طرح مراٹھی، ہندی اور انگریزی زبانوں کے ماہرین نے بھی اپنے اپنے کلیدی خطبات میں خواتین ادب کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔اردو تحقیقی سیشن کی صدارت ڈاکٹر اسلم مرزا نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے ڈاکٹر مسرت فردوس نے تانیسی ادب میں خواتین قلم کاروں کی نمایاں خدمات پر اظہارِ خیال کیا اور ملک کی مختلف خواتین ادیباؤں کے حوالوں سے ان کی فکری و تخلیقی کاوشوں کو سراہا۔
اس موقع پر ڈاکٹر رفیع الدین ناصر نے اورنگ آباد کی خواتین قلم کاروں کی اردو سائنسی خدمات پر اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا، جب کہ دیگر محققین نے بھی خواتین ادب سے متعلق مختلف عنوانات پر اپنے مقالہ جات پیش کر کے کانفرنس کو علمی وقار بخشا۔پورے پروگرام کی نظامت و کوآرڈینیشن شعبۂ اردو کی صدر ڈاکٹر عالیہ کوثر نے انجام دی۔ انہوں نے مہمانوں کا تعارف پیش کیا اور اظہارِ تشکر کے ساتھ اس عظیم الشان ایک روزہ قومی کانفرنس کے اختتام کا اعلان کیا۔

Related posts

 رمضان المبارک کو تزکیہ، اصلاحِ نفس اور روحانی تربیت کا مہینہ بنانا چاہیے، علماء وحفاظ کرام کا خصوصی پروگرام 

Hamari Duniya News

ٹرائی نے سورت میں موبائل نیٹ ورک ٹیسٹ کیا، ڈیٹا اسپیڈ میں جیو اوول

Hamari Duniya News

ریلائنس فاؤنڈیشن کے ہنر مندانہ اقدامات سے 1.8 لاکھ نوجوانوں کو روزگار ملا

Hamari Duniya News