9.5 C
New York
اکتوبر 23, 2026
Delhi دہلیTop News

جدید ٹیکنالوجی کے دور میں حکمت، مصلحت اورمیزان اسلامی رہنمائی کے بنیادی اصول: حاجی شمیم احمد

شمیم احمد
مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ترقی کو انسانی فلاح،اخلاقیات اور عدل وانصاف سے ہم آہنگ کرنے پرزور
نئی دہلی،23 اکتوبر:آئی آئی سی سی کے تاحیات ممبرحاجی محمدشمیم احمد(سوت والوں)نے میڈیاکو دیے گئے بیان میں کہا کہ جدیدتکنیکی دورمیں اسلامی تعلیمات کے 3اہم اصول،حکمت،مصلحت اورمیزان،انسانیت کو متوازن، بامقصداور اخلاقی زندگی گزارنے کی رہنمائی فراہم کرتے ہیں،لہذاآج سائنس، مصنوعی ذہانت،روبوٹکس، بایوٹیکنالوجی اورڈیجیٹل میڈیا نے انسانی زندگی میں غیر معمولی تبدیلیاں پیداکی ہیں، لیکن ان ترقیات کیساتھ کئی اخلاقی، سماجی اورروحانی چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ مذہب اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے،جوانسان کوعلم اورٹیکنالوجی کے استعمال میں اخلاقی اقدار،انسانی فلاح اور عدل وانصاف کومقدم رکھنے کی تعلیم دیتاہے۔ قرآن مجیدمیں حکمت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ارشادفرمایاگیاہے کہ جسے حکمت عطا کی گئی،اسے بہت بڑی بھلائی عطاہوئی،لہذااس سے واضح ہوتاہے کہ محض علم حاصل کرنا کافی نہیں، بلکہ اسے صحیح مقصداوردرست طریقے سے استعمال کرنابھی ضروری ہے۔
محمد شمیم احمد نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اورجدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں حکمت کاتقاضاہے کہ انکے فوائدکیساتھ ممکنہ نقصانات اورمعاشرتی اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے۔ اگر علم اورٹیکنالوجی کو اخلاقی اصولوں سے الگ کردیاجائے تو یہی ترقی مسائل اورنقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
انہوں نے مصلحت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی تعلیمات انسانی بھلائی کو فروغ دینے اورنقصان سے بچانے پرزوردیتی ہیں۔ سوشل میڈیااورڈیجیٹل ذرائع نے معلومات کی فراہمی کوآسان بنایاہے،تاہم جھوٹی خبروں،نفرت انگیزمواداورذاتی معلومات کے غلط استعمال جیسے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں،تاہم اسلیے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کو اجتماعی مفاداور انسانی حقوق کے تحفظ کیلئےاستعمال کیاجائے۔انہوں نے کہا کہ میزان،یعنی توازن اورعدل،اسلامی فکرکا ایک اہم اصول ہے،البتہ جدیدترقی کیساتھ ماحولیات،خاندانی نظام،ذہنی سکون اور اخلاقی اقدار کا تحفظ بھی ضروری ہے۔
مادّی ترقی اسی وقت حقیقی کامیابی بن سکتی ہے جب اس کیساتھ روحانی اور اخلاقی توازن برقرار رہے۔آخرمیں حاجی شمیم نے کہاکہ مسلمانوں کوجدیدٹیکنالوجی سے دوررہنے کے بجائے اسے اسلامی اخلاقیات اورانسانی فلاح کے اصولوں کے مطابق اپنانا چاہیے،لہذا اصل ترقی وہی ہے جو انسان کوبہتربنائے اورمعاشرے میں امن، انصاف اور خوشحالی کو فروغ دے۔

Related posts

عالمی اردو کانفرنس : اردو اور اس کے مصنفین نے دیگر زبانوں اور تہذیبوں کو بھی متاثر کیا: امتیاز حسنین

Hamari Duniya News

آج سپریم کورٹ کی جانب اپوزیشن کا مارچ، راہل گاندھی کی اپیل ڈریں نہیں’آئین اور جمہوریت بچانے کیلئے آگے آئیں‘

Hamari Duniya News

جعفرآباد جیکٹ مارکیٹ کے سامنے عوامی بیت الخلا بلاک کی تعمیر کا افتتاح، 16 لاکھ روپے ہوں گے خرچ

Hamari Duniya News