17.3 C
New York
اکتوبر 21, 2026
International بین الاقوامی خبریںTop News

بغاوت کی آگ میں کیوں جھلس رہا ہے یوروپ ! آخر اپنی حکومتوں سے کیا چاہتے ہیں عوام؟

بغاوت

نئی دہلی،21 اکتوبر(ہماری دنیا نیوز)۔

مہنگائی، مہنگے ایندھن، بے قابو کرایوں اور کم آمدنی کے خلاف یورپ کے متعدد ممالک میں عوامی احتجاج کی لہر تیز ہوگئی ہے۔ فرانس، اٹلی، اسپین، پرتگال، بیلجیئم، یونان اور البانیہ سمیت کئی ممالک میں طلبہ، مزدور، اساتذہ اور عام شہری سڑکوں پر اتر کر حکومتوں سے بہتر تنخواہوں، سستی رہائش، معیاری تعلیم اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق، 21 اکتوبر کو یونان میں بھی ہزاروں طلبہ اور اساتذہ نے احتجاج کیا، جبکہ پرتگال میں رہائش کے بحران کے خلاف مظاہرین نے پولیس کی جانب سے خیمے ہٹائے جانے کے بعد دوبارہ احتجاج شروع کردیا۔
پرتگال میں خیمے ہٹائے گئے، 55 افراد گرفتار
پرتگال میں رہائش کے بڑھتے اخراجات اور مہنگائی کے خلاف احتجاج نے نئی شدت اختیار کرلی ہے۔ دارالحکومت لزبن اور پورٹو میں مظاہرین نے رہائش کے بحران کی جانب توجہ مبذول کرانے کے لیے عوامی مقامات پر خیمے نصب کیے تھے۔ پولیس نے 20 اکتوبر کو کارروائی کرتے ہوئے احتجاجی کیمپ ہٹا دیے اور 55 افراد کو حراست میں لیا، تاہم مظاہرین دوبارہ ان مقامات پر پہنچ گئے۔
احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت کرایہ داروں کو تحفظ فراہم کرے اور مجوزہ قانون واپس لے، جس کے تحت مکان مالکان کے لیے کرایہ ادا نہ کرنے والے کرایہ داروں کو بے دخل کرنا آسان ہوجائے گا اور نئے کرایہ ناموں پر کرایوں کی حد مقرر کرنے کی پابندی ختم ہوسکتی ہے۔ پرتگال میں 2017 کے بعد سے مکانات کی قیمتیں دگنی سے زیادہ ہوچکی ہیں، جبکہ نئے کرایوں میں بھی تقریباً اتنا ہی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
یونان میں طلبہ اور اساتذہ سڑکوں پر
یونان میں 21 اکتوبر کو ہزاروں طلبہ اور اساتذہ نے تعلیم کے لیے سرکاری سرمایہ کاری بڑھانے، اسکولوں میں بہتر سہولتیں فراہم کرنے اور کلاس رومز میں طلبہ کی تعداد کم کرنے کے مطالبے پر مظاہرے کیے۔ ایتھنز اور اس کے اطراف میں تقریباً 10 ہزار افراد کے احتجاج میں شریک ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ دیگر شہروں میں بھی مظاہرے ہوئے۔
مظاہرین نے سستی طلبہ رہائش، بہتر تعلیمی ماحول اور اساتذہ کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے کرایوں اور روزمرہ اخراجات کے باعث نوجوانوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا اور خودمختار زندگی شروع کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔
فرانس میں مہنگائی کے خلاف احتجاج، کئی شہروں میں تشدد
فرانس میں احتجاج کا دائرہ تعلیم اور سرکاری سہولتوں سے نکل کر مہنگائی اور معاشی مشکلات تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ، مزدور تنظیموں اور دیگر گروپوں نے اسکولوں میں سہولتوں کی کمی، اساتذہ کی قلت اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، فرانس کے مختلف شہروں میں احتجاج کے دوران لوٹ مار، آتش زنی اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے واقعات بھی پیش آئے۔ صدر ایمانوئل میکرون نے تشدد اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
اسپین میں مکانات کے کرایوں نے بڑھائی پریشانی
اسپین میں مہنگی رہائش کے خلاف احتجاج کئی ہفتوں سے جاری ہے۔ میڈرڈ کے مشہور مقام پوئرتا ڈیل سول سمیت مختلف علاقوں میں مظاہرین نے خیمے لگا کر احتجاج کیا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ کرایوں پر قابو پانے اور عام لوگوں کے لیے مناسب قیمت پر مکانات دستیاب کرانے کے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
میڈرڈ میں اساتذہ نے بھی تنخواہوں میں اضافے اور بہتر کام کے حالات کے مطالبے پر ہڑتال کی ہے۔ اسپین میں مزدور تنظیموں نے 11 نومبر کو ملک گیر ہڑتال کی اپیل بھی کی ہے، جس سے احتجاجی تحریک میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔
اٹلی اور بیلجیئم میں بھی غصہ عروج پر
اٹلی میں بڑھتی قیمتوں اور معاشی حالات کے خلاف مظاہرے ہوئے، جبکہ میلان، تورین اور بولوگنا سمیت بعض شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اٹلی میں 20 نومبر کو عام ہڑتال کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
بیلجیئم میں برسلز اور لیژ سمیت مختلف علاقوں میں احتجاج کے دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ طلبہ نے تعلیمی اخراجات اور فیسوں کے خلاف بھی آواز اٹھائی ہے۔
البانیہ میں بدعنوانی کے خلاف طلبہ کا احتجاج
البانیہ میں معاشی مشکلات، بدعنوانی، بے روزگاری اور تعلیمی سہولتوں کی کمی کے خلاف احتجاج کیا گیا ہے۔ نوجوانوں اور طلبہ کی جانب سے حکومتی پالیسیوں پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ ان مظاہروں میں پولیس کے ساتھ جھڑپوں اور گرفتاریوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
مہنگائی کم ہونے کے باوجود عوام کو راحت کیوں نہیں؟
ماہرین کے مطابق، مہنگائی کی شرح میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی کم ہوجائیں گی۔ قیمتیں پہلے کی بلند سطح پر برقرار رہنے اور آمدنی میں اسی تناسب سے اضافہ نہ ہونے کے باعث گھریلو بجٹ پر دباؤ برقرار رہتا ہے۔
یورونیوز کی جانب سے یورپی یونین کے اعداد و شمار کے تجزیے کے مطابق، اگست 2021 سے اگست 2026 کے درمیان یورپی یونین میں خوراک اور غیر الکحل مشروبات کی قیمتوں میں مجموعی طور پر تقریباً 34 فیصد اضافہ ہوا۔ بڑھتے کرایے، توانائی کے اخراجات، تعلیم کی لاگت اور محدود قوتِ خرید نے اس معاشی دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
مجموعی طور پر مختلف ممالک میں جاری احتجاج کی وجوہات الگ الگ ہیں، لیکن ان میں ایک مشترکہ مطالبہ نمایاں ہے: آمدنی کے مطابق اخراجات، سستی رہائش، بہتر عوامی سہولتیں اور حکومتوں کی جانب سے مؤثر معاشی اقدامات۔ یہ تحریکیں یورپ میں عوامی زندگی کے معیار اور معاشی پالیسیوں پر بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتی ہیں۔

Related posts

سعودی عرب پر حملہ: خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی

Hamari Duniya News

مہاراشٹر کارپوریشن الیکشن میں عمران پرتاپ گڑھی جہاں بھی پہنچے، وہاں وہاں کانگریس کو ملی کامیابی

Hamari Duniya News

اب 10 روپے والا آئس کریم بھی بیچے گی ریلائنس، بامبے کریمری برانڈ کیا لانچ

Hamari Duniya News