22.7 C
New York
اکتوبر 16, 2026
National قومی خبریںTop News

ملت کی خدمت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں اور نوجوانوں کو آگے بڑھائیں: مولانا محمود مدنی کا ملک بھر کے ذمہ داران کو واضح پیغام

دارالعلوم پوکرن،جیسلمیر راجستھان میں ملک بھر کے صوبائی صدور و نظماء کا سہ روزہ اجتماع

چھ ماہ میں 5352نئے مکاتب قائم، 14708 مقامات پر درسِ قرآن و حدیث کا آغاز،

9400نوجوان جمعیۃ کے شعبۂ رفیق سے وابستہ، 484 دیہات جن وکاس سیوا کے لیے منتخب

پوکرن، راجستھان، 16 اکتوبر: جمعیۃ علماء ہند کے ریاستی و علاقائی یونٹوں کے صدور و نظماء اعلیٰ کا نواں مرکزی ششماہی مشورہ دارالعلوماسلامیہ پوکرن، جیسلمیر راجستھان میں منعقد ہوا۔ اس مشورے میں صوبوں کے نظمائے تنظیم بھی شریک ہیں۔ اجلاس میں صدر جمعیۃ علماءہند مولانا محمود اسعد مدنی نے تنظیمی افکار و نظریات اور منصوبوں پر تفصیلی خطاب کیا۔ اس موقع پر ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے سابقہ کارروائی کی خواندگی کی جب کہ پروگرام کے میزبان اور جمعیۃ علماء ہند کے نائب صدر مولانا قاری محمد امین، مہتمم دارالعلوم اسلامیہ پوکرن کی جانب سے استاذ مدرسہ ہذا مفتی فضل الدین قاسمی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا۔

سہ روزہ مشورے میں ملک بھر کی تنظیمی، تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں کی ششماہی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ چھ ماہ کے لیے مختلف شعبوں کے اہداف مقرر کیے گئے۔چنانچہ پیش کردہ رپورٹوں کے مطابق اپریل تا اکتوبر 2026کے دوران تمام صوبوں نے حسب ذیل پیش رفت کی ہے:

دینی مکاتب: گزشتہ چھ ماہ میں5352 نئے مکاتب قائم ہوئے۔ آئندہ چھ ماہ میں مزید5332مکاتب کے قیام کا ہدف مقرر کیا گیا، جب کہ پہلے سے 63 ہزار سے زائد مکاتب چل رہے ہیں۔

درسِ قرآن و حدیث: گزشتہ چھ ماہ میں 5860 نئے مقامات پر درسِ قرآن اور 8848 نئے مقامات پر درسِ حدیث کا آغاز ہوا، جب کہ اس سے قبل بالترتیب 4556 اور 6678 مقامات پر یہ سلسلہ جاری ہے۔

اصلاحِ معاشرہ : اخلاقی تربیت، معاشرتی اصلاح اور فضول خرچی کی روک تھام کے لیے 7351 اصلاحی اجتماعات منعقد ہوئے۔ اگلے مرحلے کے لیے 8383 اجتماعات کا ہدف رکھا گیا۔

رفیق: نوجوانوں کو تنظیمی سرگرمیوں اور خدمتِ خلق سے وابستہ کرنے کے تحت 9400 نوجوانوں کو جمعیۃ کے شعبۂ رفیق سے جوڑا گیا، جب کہ آئندہ مرحلے کے لیے 9753نوجوانوں کا ہدف مقرر ہوا۔

مثالی مساجد: مساجد کو دینی و سماجی رہنمائی کے فعال مراکز بنانے کے لیے 1806 مثالی مساجد قائم ہوئیں۔ آئندہ چھ ماہ کے لیے 2556 کا ہدف رکھا گیا۔

سدبھاؤنا منچ: قومی یکجہتی، باہمی ہمدردی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لیے 356 پروگرام منعقد کیے گئے۔ اگلے مرحلے میں 1091 پروگراموں کا ہدف مقرر کیا گیا۔

جن وکاس سیوا: سماجی و تعلیمی ترقی کی سرگرمیوں کے لیے 484 دیہات منتخب کیے گئے، جب کہ آئندہ مرحلے میں مزید 748 دیہات کو شامل کرنے کا ہدف رکھا گیا۔

تنظیمی تربیت: کارکنان کی صلاحیت سازی اور تنظیمی استحکام کے لیے 115 ورکشاپیں منعقد ہوئے۔ آئندہ چھ ماہ میں 386 ورکشاپوں کے انعقاد کا منصوبہ پیش کیا گیا۔ اس کےعلاوہ پانچ ہزار سے زائد تنظیمی میٹنگوں کا بھی انعقاد عمل میں آیا ہے۔

اس موقع پر اپنے کلیدی خطاب میں صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود اسعد مدنی نے ششماہی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مختلف شعبوں میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ملت کی ضروریات اور درپیش تقاضوں کے پیش نظر ہماری ذمہ داریاں بہت وسیع ہیں، اس لیے مزید محنت، اخلاص اور عزم کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ہمارے نزدیک ملت کی خدمت کو اصل ترجیح حاصل ہے۔ ہمیں اپنے اندر ملت کے لیے مرمٹنے کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔ جب یہ جذبہ پیدا ہو جائے گا تو ذاتی حیثیتوں کی اہمیت خود بخود کم ہوجائے گی ۔

اکابرین اور اسلاف کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ انہوں نے محدود وسائل اور نامساعد حالات کے باوجود غیر معمولی عزم و استقامت کے ساتھ کام کیا اور مشکلات سے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کے اخلاص، ایثار اور جذبۂ خدمت کو اپنی عملی زندگی میں اپنائیں اور اسی احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ملی و تنظیمی کاموں کو آگے بڑھائیں۔

نوجوان نسل کو آگے بڑھانے اور نئی قیادت تیار کرنے پر زور دیتے ہوئے صدر جمعیۃ نے کہا کہ نوجوانوں کو کام کے مواقع فراہم کیے جائیں، انہیں ذمہ داریاں سونپی جائیں اور اس انداز سے تیار کیا جائے کہ وہ مستقبل میں موجودہ ذمہ داران کا مؤثر متبادل بن سکیں۔ اس طرح جمعیۃ علماء ہند کا پیغام اور اس کی تعمیری سرگرمیاں ملک کے کونے کونے، ہر گاؤں اور ہر بستی تک پہنچائی جاسکیں گی۔ انھو ں نے کہا کہ ہم خیال لوگوں کو ملت کے مشترکہ کاموں میں ساتھ لانا ہوگا۔

نائب صدر جمعیۃ علماءہند مولانا محمد سلمان بجنو ری نے کہا کہ جب یہ جذبہ ہمارے اندر پوری طرح پیدا ہو جائے کہ ہم اپنے کام کو ذاتی شہرت، نام و نمود اور اپنی ذات کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دیں، تو پھر کام چھوٹا ہو یا بڑا، اس کی قدر و قیمت باقی رہتی ہے۔ ورنہ محض عہدے، منصب اور ظاہری شہرت ہمیشہ باقی نہیں رہتے۔

اجلاس کی ایک اہم نشست میں صدر جمعیۃ علماء یوپی مولانا مفتی سید محمد عفان منصورپوری نے دینی تعلیمی بورڈ اور مکاتب کے سلسلے میں اپنی پیشکش اور تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے بنیادی دینی تعلیم کے فروغ، مکاتب کے قیام، اساتذہ کی تربیت اور تعلیمی سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کی اہمیت واضح کی۔ اس ضمن میں صوبائی یونٹوں کی ذمہ داریوں اور آئندہ کے عملی اہداف پر بھی توجہ دی گئی۔

واضح ہو کہ مشورے کی مختلف نشستوں کی صدارت نائب صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمد سلمان بجنوری، نائب صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا قاری محمد امین، صدر مجلسِ قائمہ جمعیۃ علماء ہند مفتی رحمت اللہ میر کشمیری ،صدر جمعیۃ علماء کرناٹک مفتی افتخار احمد قاسمی اور مولانا عبدالقادر نائب صدر جمعیۃ علماء آسام نے کی او ر ان حضرات اکابر نے وقیع خطبہ بھی پیش کیا۔

مختلف شعبوں کی رپورٹیں اور پرزنٹیشن اویس سلطان خاں ( شعبہ جیم ) مفتی مہدی حسن عینی (سدبھاونا منچ)، ڈاکٹر شبیر مشتاق میر (خیر ایپ اور تربیتی رپورٹ)، مولانا محمد اخلاق (رفیق) اور مولانا محمد عمر قاسمی (اصلاحِ معاشرہ ، مثالی مساجد، ایپ) نے پیش کیں۔ سکریٹری جمعیۃ علماء ہند مولانا نیاز احمد فاروقی نے پیرا ا لیگل ٹریننگ پرروشنی ڈالی ۔ اجلاس میں پیش کردہ رپورٹوں اور آئندہ کے اہداف کی روشنی میں تنظیمی و سماجی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے پر غور کیا گیا۔مجلسوں کا آغاز مفتی سید محمد عفان منصورپوری کی تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا، جب کہ دارالعلوم اسلامیہ پوکرن کے طلبہ نے نعت شریف پیش کی۔تین روزہ اس مشورے میں ملک بھر کی تنظیمی، تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے ساتھ مختلف شعبوں کی کارکردگی، درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر تبادلۂ خیال کیا گیا اور معیاری مساجد ، ہر یونٹ میں اصلاحی کمیٹی اور مثالی اضلاع میں فیملی کونسلنگ سینٹر قائم کرنے کی تجویز منظور ہوئی۔ مشورے مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند کے کئی ذمہ داران بھی موجود ہیں ۔دارالعلوم اسلامیہ پوکرن اس مرکزی مشورے کی میزبانی بحسن و خوبی انجام دی ۔ اساتذہ اور طلبہ سمیت ادارے کے منتظمین نے مہمانوں کی ہر ممکن خدمت کی۔

Related posts

مایاوتی نے بھتیجے آکاش آنند کو بی ایس پی سے پھر نکالا، خاندان کو پارٹی سے زیادہ ترجیح دینے کا الزام

Hamari Duniya News

آبنائے ہرمز کھولنے پر ایران کی نئی شرطیں، امریکا کے سامنے رکھ دیے 6 مطالبات

Hamari Duniya News

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کا سہ روزہ عالمی اردو کانفرنس کا افتتاح کل

Hamari Duniya News