ستمبر 6, 2026
National قومی خبریںTop News

سیوان میں زخمی طلبہ سے راہل گاندھی کی ملاقات، پولیس پر اے کے -47 سے بلا اشتعال فائرنگ اور ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کا الزام

نئی دہلی، 6 ستمبر: کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بہار کے سیوان میں طلبہ کے احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے نوجوانوں سے ملاقات کرکے ان کا حال دریافت کیا۔ زخمی طلبہ نے ملاقات کے دوران پولیس کارروائی کے حوالے سے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ احتجاج کے دوران پولیس نے بلااشتعال فائرنگ کی اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا۔

راہل گاندھی نے طلبہ کی بات تفصیل سے سنی اور ان کی چوٹوں، علاج اور مستقبل کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ ملاقات کے دوران بعض طلبہ نے اپنی چوٹیں بھی دکھائیں اور بتایا کہ پولیس کارروائی کے بعد انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’سوچئے، ان بچوں نے ایسا کیا جرم کیا تھا کہ انہیں گولی مار دی گئی؟ انہوں نے حکومت سے صرف تین چیزیں، تعلیم، روزگار اور جواب دہی مانگی تھی۔ ایک طالب علم کی ٹانگ کی ہڈی اے کےõ47 کی گولی سے ٹوٹ گئی۔ فوج میں شامل ہو کر ملک کی خدمت کرنے کا اس کا خواب بھی اسی کے ساتھ چکنا چور ہوگیا۔ مزید دو طلبہ کے کندھوں کو گولی چیرتی ہوئی نکل گئی۔ یہ مجرم نہیں تھے۔ یہ غریب خاندانوں کے وہ بچے تھے جو اپنے اہل خانہ کے خواب لے کر تعلیم حاصل کرنے نکلے تھے۔ کسی کو اچھی ملازمت چاہیے تھی تو کوئی اپنے گھر کے حالات بدلنا چاہتا تھا۔‘‘
ویڈیو میں راہل گاندھی طلبہ سے بات چیت کرتے اور ان کی خیریت دریافت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کی چوٹوں کا بھی جائزہ لیا۔ اس دوران ایک طالب علم نے بتایا کہ وہ فوج میں بھرتی ہو کر ملک کی خدمت کرنا چاہتا تھا، لیکن گولی لگنے کے بعد اس کا یہ خواب ٹوٹ گیا۔

احتجاج کے دوران کیا ہوا تھا؟

یہ واقعہ 25 جولائی کو بہار بند کے دوران سیوان میں پیش آیا تھا۔ یہ احتجاج امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں، پیپر لیک اور طلبہ و نوجوانوں کے لیے شفاف مواقع اور روزگار کے مطالبات سے متعلق تھا۔ احتجاج کے دوران سیوان سمیت ریاست کے بعض علاقوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔

سیوان کے جے پی چوک علاقے سے ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں ایک پولیس اہلکار کو مبینہ طور پر اے کے-47 سے فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد پولیس کارروائی پر سیاسی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا۔ متعلقہ پولیس اہلکار کو بعد میں معطل کر دیا گیا اور اس کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی گئی۔

زخمی طلبہ نے راہل گاندھی کو کیا بتایا؟

ملاقات کے دوران طلبہ نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے مظاہرین پر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی اور فائرنگ بھی کی۔ ایک زخمی طالب علم کے مطابق گولی لگنے سے اس کی ٹانگ کی ہڈی شدید متاثر ہوئی اور اسے آپریشن کے ذریعے راڈ ڈالوانی پڑی۔ اس طالب علم نے بتایا کہ وہ فوج میں شامل ہوکر ملک کی خدمت کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا، لیکن چوٹ کے بعد اسے اپنے مستقبل کے بارے میں خدشات لاحق ہیں۔

زخمی نوجوانوں نے یہ بھی شکایت کی کہ واقعے کے دوران اور اس کے بعد انہیں فوری طبی امداد کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تین زخمی نوجوانوں نے راہل گاندھی کو فائرنگ کے پورے واقعے کی تفصیلات بتائیں اور پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

راہل گاندھی نے اٹھائے سوال

راہل گاندھی نے پولیس کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جو نوجوان تعلیم، روزگار، شفاف امتحانی نظام اور اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہے تھے، ان کے خلاف لاٹھی اور گولی استعمال کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صرف چند نچلے درجے کے افسران کو ذمہ دار قرار دے کر حکومت اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتی۔ راہل گاندھی نے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھانے اور متاثرہ نوجوانوں کے ساتھ کھڑے رہنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

حکومت اور پولیس کا مؤقف

دوسری جانب، سرکاری مؤقف کے مطابق سیوان میں حالات پرتشدد ہو گئے تھے اور پولیس نے بھیڑ کو قابو کرنے کے لیے کارروائی کی۔ حکومت نے عدالت میں بتایا تھا کہ ایک کانسٹیبل نے بھیڑ میں پھنسنے کے بعد اپنی اے کے-47 سے ہوا میں چار راؤنڈ فائر کیے تھے اور اس فائرنگ میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں تھی۔ حکومت کے مطابق ایک دوسرے واقعے میں ایک اے ایس آئی نے 9 ایم ایم پستول سے دو راؤنڈ فائر کیے، جس میں تین مظاہرین کو چھروں سے چوٹیں آئیں۔ پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا بھی استعمال کیا تھا۔

سیاسی تنازع مزید گہرا

سیوان کا واقعہ اب بہار میں طلبہ کے احتجاج، پولیس کے اختیارات اور حکومت کی جواب دہی کے حوالے سے بڑا سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں پورے معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران قانون و نظم کی صورتحال خراب ہوئی تھی۔

راہل گاندھی کی زخمی طلبہ سے ملاقات کے بعد اس معاملے پر سیاسی بحث مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔ امتحانی نظام، پیپر لیک، روزگار اور نوجوانوں کے احتجاج سے جڑے اس تنازع نے بہار کی سیاست میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Related posts

بگ بریکنگ: مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ کا طیارہ حادثہ کا شکار،6 افراد کی موت

Hamari Duniya News

ہندوستان کو ملا نیا جگری دوست، دو طرفہ بات چیت کے بعد 11 اہم معاہدوں پر دستخط

Hamari Duniya News

اب 10 روپے والا آئس کریم بھی بیچے گی ریلائنس، بامبے کریمری برانڈ کیا لانچ

Hamari Duniya News