25.6 C
New York
اگست 13, 2026
Delhi دہلیNational قومی خبریںTop News

مودی اور شاہ جب تک استعفیٰ نہیں دیتے چین سے سونے نہیں دوں گا:راہل گاندھی

راہل گاندھی

لوگوں کو اظہاررائے کی آزادی ملنی چاہئے، اگر ملک میں آر ایس ایس کی آواز دبانے کی کوشش کی جائے گی تومیں اس کا دفاع کروں گا: راہل گاندھی کا بڑا بیان
نئی دہلی، 13 اگست (محمد خان ؍ ہمار ی دنیا نیوز)۔
کانگریس پارٹی کی ذیلی تنظیم رچناتمک کانگریس کی جانب سے منعقدہ دو روزہ قومی کنونشن میں پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے شرکت کی۔ نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں 12 اور 13 اگست کو منعقد ہونے والے اس کنونشن میں بے روزگاری، تعلیم، سماجی و معاشی انصاف اور ماحولیات سمیت عوام سے جڑے اہم مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔کنونشن کے افتتاحی سیشن سے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے خطاب کیا جبکہ پروگرام کا اختتام راہل گاندھی کے خطاب ہوا۔
واضح رہے کہ رچناتمک کانگریس کا مقصد محض سیاسی تقریروں تک محدود رہنے کے بجائے عوامی مسائل پر براہِ راست گفتگو، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مختلف شعبوں سے وابستہ افراد کی آراءسننا اور ان مسائل کے حل کے لیے آئندہ کی حکمت عملی پر غور کرنا تھا۔پروگرام کے دوسرے دن کانسٹی ٹیوشن کلب کا ماولنکر ہال مختلف مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنے کیلئے جدوجہد کرنے والے سماجی کارکنان جوملک بھر سے تشریف لائے تھے بھرا ہوا تھا۔رچناتمک کانگریس کے صدر سندیپ دکشت نے کہا کہ میں نے تقریباً 400 نمائندوں کوشرکت کی دعوت دی تھی لیکن دوسرے دن تقریباً ایک ہزار سے زائد لوگوں نے شرکت کی۔ اور اپنے مسائل کو لوگوں کے سامنے اور کانگریس اعلیٰ قیادت کے سامنے بیان کیا اور امید ظاہر کی کہ کانگریس کے تمام رہنما اورخاص طور پر حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی ان مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھا کر اس کو حل کرانے کی کوشش کریں گے۔
کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے بھارتیہ جنتا پارٹی، وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر سخت سیاسی حملہ کیا۔
راہل گاندھی نے کہا کہ نظریاتی اختلاف اپنی جگہ ہے، لیکن جمہوریت میں اظہارِ رائے کا حق ہر ایک کو حاصل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام مذاہب کو اپنے عقیدے کے مطابق اظہار رائے اور عبادت کرنے کا حق ہونا چاہئے۔نہ کہ اس میں رکاوٹ ڈالنی چاہئے۔ انہوں نے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے کہا کہ اگر کبھی آر ایس ایس کی بھی آواز یا اظہارِ رائے کو دبانے کی کوشش کی گئی تو وہ اس کے اظہارِ رائے کے حق کا بھی دفاع کریں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ کسی تنظیم یا نظریے سے اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی آواز کو خاموش کر دیا جائے۔ ان کے مطابق جمہوریت میں آزادی اظہار کا اصول مخالف نظریات رکھنے والوں کے لیے بھی یکساں ہونا چاہیے۔

راہل گاندھی
مودی اور امت شاہ پر بھی نشانہ
راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ کو بھی اپنے نشانے پر لیا۔ انہوں نے حکومت کے سیاسی انداز، اپوزیشن کے ساتھ رویے اور عوامی مسائل سے متعلق ان کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے۔راہل گاندھی نے وزیر اعظم کی خارجہ پالیسی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ صرف دوسرے ملکوں کے سربراہان سے گلے ملنا خارجہ پالیسی نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے وزیر اعظم کی جانب سے پریس کانفرنس نہ کرنے کے معاملے کو بھی اٹھایا اور کہا کہ جمہوری نظام میں صحافیوں کے سوالات کا براہِ راست سامنا کرنا بھی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کل وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ امت شاہ کو نیند نہیں آرہی ہے اور وہ دونوں جب تک استعفیٰ نہیں دے دیتے جب تک میں انہیں سکون سے سونے نہیں دوں گا۔


کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائدِ حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے اپنے خطاب میں کہا کہ کانگریس کی بنیادی سوچ ملک کو جوڑنے اور متحد رکھنے کی رہی ہے، جبکہ کچھ لوگ مذہب کے نام پر عوام کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کھڑگے نے کہا کہ کانگریس ہمیشہ ایسے ہندوستان کی تعمیر کے نظریے پر یقین رکھتی ہے جہاں معاشرے کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلا جائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو اور ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر کے ہندوستان کے خواب کو نقصان پہنچانے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔ ان رہنماوں نے ایسے ملک کا تصور پیش کیا تھا جہاں ہر طبقے کو برابری کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع ملے۔
ملک کو جوڑنا کانگریس کی بنیادی سوچ: کھڑگے
کانگریس صدر نے کہا کہ آج ملک کے سامنے سب سے اہم ضرورت سماج میں اتحاد اور بھائی چارے کو مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو مذہب، ذات یا دیگر بنیادوں پر تقسیم کرنے کے بجائے تمام طبقات کو ساتھ لے کر ملک کی ترقی کے لیے کام کیا جانا چاہیے۔انہوں نے رچناتمک کانگریس کے کارکنوں اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ملک کے اتحاد، جمہوری اقدار اور سماجی ہم آہنگی کے پیغام کو عام کریں۔
عوامی مسائل کو مرکز میں رکھنے کی کوشش
رچناتمک کانگریس کے کنونشن میں کانگریس نے عوامی مسائل کو اپنی سیاسی حکمت عملی کے مرکز میں رکھنے کا پیغام دیا۔ تعلیم اور بے روزگاری کے ساتھ ساتھ سماجی و معاشی انصاف اور ماحولیات جیسے موضوعات پر گفتگو کو اس پروگرام کا اہم حصہ بنایا گیا۔پارٹی اس طرح کے پروگرام کے ذریعے پارٹی عوام، سول سوسائٹی اور مختلف شعبوں سے وابستہ افراد کے ساتھ براہِ راست رابطہ قائم کرنا چاہتی ہے۔ پارٹی کے لیے یہ کنونشن اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر حکومت کو گھیرنے کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل پر ایک متبادل سیاسی بیانیہ تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سیاسی طور پر دیکھا جائے تو رچناتمک کانگریس کنونشن کو کانگریس کی جانب سے اپنی تنظیمی اور سیاسی حکمت عملی کو عوامی مسائل سے جوڑنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی کا آزادی اظہار، بے روزگاری، تعلیم اور جمہوری حقوق پر زور اسی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔رچناتمک کانگریس کے صدر سندیپ دکشت نے بھی کنونشن کے حوالے سے کہا کہ اس کا مقصد لوگوں کے سوالات کو مرکز میں لانا اور ان کے مسائل پر براہِ راست گفتگو کرنا ہے۔

Related posts

جامعہ اسسٹنٹ پروفیسر تقرری تنازعہ: بغاوت کے الزام پر ڈاکٹر چنگیز خان کی وضاحت، کہا: مقدمہ پہلے ہی ختم ہو چکا

Hamari Duniya News

میرا مقصد مضبوط، شفاف اور بااختیار بار کونسل کا قیام ہے:شاہد علی ایڈوکیٹ

Hamari Duniya News

Australian Open :نوواک جوکووچ نے آسٹریلیا میں رقم کی تاریخ، آسٹریلین اوپن میں لگائی فتوحات کی جھڑی

Hamari Duniya News