تاریخ ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ہمیشہ قدر و احترام سے یاد رکھے گی: سونیا گاندھی
نئی دہلی،12 اگست (ہماری دنیا ڈیسک): کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی نے روزنامہ دی انڈین ایکسپریس کے ادارتی صفحے پر شائع اپنے مضمون میں سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ انہیں نہایت عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھے گی۔ انہوں نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کی دیانت داری، شائستگی، اقتصادی بصیرت اور جمہوری اقدار سے وابستگی کو اجاگر کرتے ہوئے ان کے دورِ حکومت کی متعدد کامیابیوں کا ذکر کیا۔
سونیا گاندھی کا یہ مضمون 11 اگست 2026 کو دی انڈین ایکسپریس کے ادارتی صفحے پر ’’History will indeed remember Dr Manmohan Singh kindly‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔
کوئلہ بلاک الاٹمنٹ معاملے میں کلین چٹ کا ذکر
مضمون میں سونیا گاندھی نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کے خلاف کوئلہ بلاک الاٹمنٹ سے متعلق مبینہ اسکینڈل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں سپریم کورٹ نے سی بی آئی کی جانب سے ڈاکٹر منموہن سنگھ کو دی گئی کلین چٹ کو برقرار رکھا ہے۔
ان کے مطابق عدالت نے سی بی آئی کی جانب سے کیس بند کرنے سے متعلق رپورٹس اور سابق وزیر اعظم کے خلاف کیے گئے بعض مشاہدات پر بھی سوال اٹھائے اور اس معاملے میں کارروائی کے لیے ’’قابلِ جواز وجہ‘‘ کی ضرورت پر زور دیا۔
سونیا گاندھی نے اپنے مضمون میں الزام عائد کیا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے خلاف الزامات ایک منظم اور مربوط مہم کا حصہ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اس پورے عرصے میں اپنی دیانت داری اور شفاف طرزِ حکمرانی کو برقرار رکھا۔
’’الزامات کی بنیاد کھوکھلی ثابت ہوئی‘‘
کانگریس رہنما نے لکھا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے خلاف لگائے گئے الزامات وقت گزرنے کے ساتھ کمزور ثابت ہوئے اور ان کا ریکارڈ بطور وزیر اعظم مسلسل زیادہ واضح ہوتا گیا۔
انہوں نے موجودہ حکومت کے طرزِ حکمرانی پر بھی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تحقیقاتی اداروں جیسے ای ڈی اور سی بی آئی کا استعمال سیاسی مخالفین کے خلاف دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
اقتصادی اصلاحات کا ذکر
سونیا گاندھی نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دورِ حکومت کی اقتصادی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کو ایسے دور میں اقتدار ملا جب ملک میں اقتصادی تبدیلی کی رفتار تیز ہو رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت کے دوران اقتصادی ترقی، کھپت اور نجی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا اور ہندوستان نے عالمی اقتصادی بحران کے دوران بھی اپنی لچک کا مظاہرہ کیا۔
مضمون میں یہ بھی کہا گیا کہ اس دور میں روزگار کے شعبے میں تبدیلی آئی اور لاکھوں افراد کو غربت سے باہر نکالنے میں اقتصادی ترقی نے اہم کردار ادا کیا۔
منریگا اور سماجی بہبود کی اسکیموں کا حوالہ
سونیا گاندھی نے ڈاکٹر منموہن سنگھ حکومت کے اہم سماجی اور فلاحی اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ ان میں حقِ تعلیم، او بی سی ریزرویشن، جنگلات کے حقوق کا قانون، مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) اور نیشنل فوڈ سکیورٹی ایکٹ شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان اقدامات نے معاشرے کے غریب، محروم اور کمزور طبقات کو بنیادی حقوق اور سماجی تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
آر ٹی آئی کو جمہوری شفافیت کا اہم ذریعہ قرار دیا
مضمون میں حقِ اطلاعات قانون (RTI) کو بھی ڈاکٹر منموہن سنگھ حکومت کی اہم کامیابی قرار دیا گیا۔ سونیا گاندھی کے مطابق آر ٹی آئی نے عام شہریوں کو حکومت کے اندرونی کام کاج اور فیصلوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا اختیار دیا اور اس سے جمہوری نظام میں شفافیت مضبوط ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ آر ٹی آئی کے اثرات کو کم کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں، تاہم اس قانون نے ہندوستانی جمہوریت اور شہری آزادیوں پر دیرپا اثرات مرتب کیے۔
جوہری معاہدے اور خارجہ پالیسی کا ذکر
سونیا گاندھی نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی ان کے دور میں ہوئے ہندوستان-امریکہ سول نیوکلیئر معاہدے کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق اس معاہدے نے ہندوستان کی توانائی اور عالمی سطح پر اس کی حیثیت کے حوالے سے ایک اہم تبدیلی کی بنیاد رکھی۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے مشکل سیاسی حالات کے باوجود اپنے فیصلوں پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور ملک کے مفادات کو ترجیح دی۔
’’ان کی شائستگی کو کمزوری سمجھا گیا‘‘
سونیا گاندھی نے اپنے مضمون میں کہا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی شائستگی، تحمل اور خاموش طرزِ عمل کو بعض لوگوں نے ان کی کمزوری سمجھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کی شخصیت اور حکمرانی کا ریکارڈ زیادہ واضح ہوتا گیا۔
انہوں نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کے خلاف سیاسی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان پر لگائے گئے الزامات کی بنیاد کمزور ثابت ہوئی اور سابق وزیر اعظم کی دیانت داری آج پہلے سے زیادہ تسلیم کی جا رہی ہے۔
مضمون میں وزیر اعظم نریندر مودی کے 2017 میں راجیہ سبھا میں ڈاکٹر منموہن سنگھ پر کیے گئے سیاسی حملے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ سونیا گاندھی نے لکھا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ پر حملوں میں سیاسی زبان اور الزامات کا ایک ایسا سلسلہ سامنے آیا جسے وقت نے درست ثابت نہیں کیا۔
’’ڈاکٹر منموہن سنگھ کی کمی ہمیشہ محسوس ہوگی‘‘

سونیا گاندھی نے مضمون کے اختتام پر ڈاکٹر منموہن سنگھ کی شخصیت اور خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا نہ ہونا آج بھی محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ہندوستان کی اقتصادی، سیاسی اور سماجی ترقی میں جو کردار ادا کیا، اسے تاریخ میں طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی دیانت داری، شائستگی، جمہوری اقدار اور عوامی خدمت کی روایت آنے والی نسلوں کے لیے مثال بنی رہے گی۔
سونیا گاندھی نے اپنے مضمون میں مجموعی طور پر ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دورِ حکومت اور ان کی سیاسی میراث کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کی حقیقت واضح ہوئی ہے اور ان کا شمار ہندوستان کے ان وزرائے اعظم میں ہوگا جنہیں تاریخ احترام کے ساتھ یاد کرے گی۔
