تہران،10 اگست: ایران میں جنگ کے بعد کی صورتحال، علاقائی سلامتی اور امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں اہم تبدیلی کی گئی ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے میجر جنرل محسن رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کیا ہے، جبکہ صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے بھی انہیں کونسل کا سیکریٹری مقرر کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔
محسن رضائی کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران جنگ کے بعد کے مرحلے میں داخلی استحکام، اقتصادی دباؤ اور بیرونی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اہم فیصلوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کی تقرری کو ان کے طویل فوجی اور سکیورٹی تجربے کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا اعتماد
ایرانی سپریم لیڈر کی جانب سے جاری حکم نامے میں محسن رضائی کے تجربے اور سابقہ خدمات کا ذکر کرتے ہوئے ان سے نئی ذمہ داری مؤثر انداز میں ادا کرنے کی توقع ظاہر کی گئی۔ محسن رضائی ایران عراق جنگ کے دور کے اہم فوجی کمانڈروں میں شمار ہوتے ہیں اور طویل عرصے تک سپاہ پاسداران انقلاب کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے سابق سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر کی خدمات پر بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں ایرانی میڈیا میں یہ خبر سامنے آئی کہ ذوالقدر کو سپریم لیڈر کا سیاسی مشیر مقرر کیا گیا ہے۔
تقرری کے معاملے پر چند گھنٹے شکوک و شبہات
محسن رضائی کی تقرری کی خبر سامنے آنے کے بعد ایرانی میڈیا میں کچھ دیر کے لیے غیر یقینی صورتحال بھی پیدا ہوئی۔ خبر رساں ادارے ایسنا نے ابتدا میں ان کی تقرری کی خبر جاری کی، تاہم بعد میں اسے حذف کردیا۔ دیگر ایرانی میڈیا اداروں، جن میں تسنیم اور مہر بھی شامل ہیں، کی جانب سے بھی خبر واپس لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
بعد میں ایرانی صدر کے دفتر میں مواصلات اور میڈیا امور کے معاون مہدی طباطبائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر تصدیق کی کہ صدر مسعود پزشکیان نے محسن رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکریٹری مقرر کیا ہے۔
یہ تقرری محمد باقر ذوالقدر کے سیکریٹری کے عہدے سے سبکدوش ہونے اور نئی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد عمل میں آئی۔
پزشکیان کا مذاکرات کے لیے دروازہ کھولنے کا اشارہ
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے موجودہ صورتحال میں مذاکرات کے امکانات کی جانب بھی اشارہ کیا ہے۔ صحافیوں کے دن کے موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کسی معاہدے تک پہنچنے اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کے لیے مناسب موقع فراہم کرسکتے ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ ایران مذاکرات کے ذریعے اپنے حقوق اور مطالبات کی پیروی کرسکتا ہے، تاہم دوسرے فریق کو ایرانی عوام کے حقوق کو تسلیم کرنے اور ان کی ضمانت دینے کی ضرورت ہوگی۔
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ تہران اپنے حقوق کے علاوہ کسی اضافی مطالبے کا خواہاں نہیں ہے۔ ان کے مطابق ملک میں اتحاد، قومی طاقت اور داخلی یکجہتی موجود ہے، جو مذاکرات کے ذریعے کسی ممکنہ معاہدے کی جانب بڑھنے کے لیے بہتر ماحول فراہم کرسکتی ہے۔
پزشکیان نے یہ بھی کہا کہ ان کے اندازے کے مطابق ایران جنگ سے فاتح اور مضبوط ہوکر نکلا ہے۔
’نہ جنگ، نہ امن‘ کی صورتحال
ایرانی صدر نے موجودہ حالات کو ’نہ جنگ، نہ امن‘ کی کیفیت سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو درپیش چیلنج صرف مستقبل میں کسی ممکنہ فوجی حملے تک محدود نہیں بلکہ ملک کے معاشی حالات اور عوام کے روزمرہ مسائل بھی انتہائی اہم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگ اور میزائل کسی ملک کو اپنے موقف سے دستبردار ہونے پر مجبور نہیں کرسکتے۔ ان کے مطابق ایران کے لیے حقیقی خطرہ اندرونی اختلاف اور قومی تقسیم سے پیدا ہوسکتا ہے۔
پزشکیان نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مفاد اور قومی ہم آہنگی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں اور بعض معاملات میں قومی اتحاد برقرار رکھنے کے لیے مختلف فریقوں کو کچھ رعایتیں بھی دینا پڑ سکتی ہیں۔
اقتصادی مشکلات بھی بڑا چیلنج
ایرانی صدر نے ملک کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے اقتصادی مسائل اور شہریوں کے معاشی حالات پر خصوصی توجہ مرکوز کی۔ ان کے مطابق جنگ کے خطرے کے ساتھ ساتھ مہنگائی، اقتصادی دباؤ اور عوام کے روزمرہ اخراجات بھی حکومت کے لیے بڑے چیلنج ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران کے اندر اتحاد اور ہم آہنگی ضروری ہے۔ پزشکیان نے خبردار کیا کہ داخلی اختلاف اور تقسیم ملک کو بیرونی دباؤ سے بھی زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ایران میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی قیادت میں یہ تبدیلی ایسے وقت ہوئی ہے جب تہران کو ایک جانب جنگ کے بعد سکیورٹی صورتحال کو سنبھالنا ہے اور دوسری جانب اقتصادی مسائل اور امریکہ کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے اہم فیصلے کرنے ہیں۔ محسن رضائی کی نئی ذمہ داری اور پزشکیان کے مذاکرات سے متعلق حالیہ بیانات آنے والے دنوں میں ایران کی سکیورٹی اور خارجہ پالیسی کی سمت کے حوالے سے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
