تہران،09 اگست: آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی امیدوں کے درمیان ایران نے امریکا کے سامنے ایسی شرائط رکھ دی ہیں جن پر اتفاق ہونا آسان دکھائی نہیں دیتا۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے واضح کیا ہے کہ جب تک واشنگٹن تہران کے مطالبات تسلیم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحری آمدورفت کے لیے نہیں کھولا جائے گا۔
محمد باقر ذوالقدر کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے چھ بنیادی مطالبات رکھے ہیں۔ ان میں ایران کے خلاف دھمکیوں اور توہین آمیز رویے کا خاتمہ، خطے میں جنگ اور فوجی کارروائیوں کا مستقل خاتمہ، ایرانی پانیوں کے اطراف امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا اور امریکی فوجی موجودگی میں کمی، جنگی نقصانات کا مکمل معاوضہ، ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی غیر مشروط واپسی شامل ہے۔
ایرانی سکیورٹی عہدیدار کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کے لیے ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ حالیہ دنوں میں تہران اور مسقط نے ان مذاکرات کو ’’مثبت اور تعمیری‘‘ قرار دیا ہے، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی کہہ چکے ہیں کہ عمان کے ساتھ بات چیت آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔
تاہم عراقچی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ مذاکرات میں کسی سمجھوتے تک پہنچ جانا لازماً آبنائے ہرمز کے فوری طور پر کھلنے کی ضمانت نہیں ہوگا۔ تہران کے مطابق آبنائے کو مکمل طور پر کھولنے کا فیصلہ دیگر شرائط کی تکمیل سے بھی منسلک ہے۔
امریکا سے معاہدے کی امید
دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق کسی ممکنہ معاہدے کے حوالے سے نسبتاً مثبت اشارے دیے گئے ہیں۔ امریکی ذرائع کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور واشنگٹن کو امید ہے کہ جلد کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ممکنہ معاہدے کے اعلان کے بعد امریکا ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کر سکتا ہے۔ اس سے آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی بحری تجارت کی بحالی کی راہ ہموار ہونے کی توقع کی جا رہی تھی۔
تہران میں حتمی منظوری کا معاملہ
ایک ثالث ملک کے سفارت کار کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق ایرانی مذاکرات کار عمان اور امریکا کے ساتھ کسی ممکنہ سمجھوتے کو حتمی شکل دینے کے لیے تہران میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی آخری منظوری کے منتظر ہیں۔
یہ پہلو محمد باقر ذوالقدر کے تازہ بیان کو مزید اہم بنا دیتا ہے، کیونکہ وہ خود سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری ہیں اور یہی ادارہ ایران کی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے اہم معاملات میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔
مذاکرات کے باوجود مؤقف میں سختی
تجزیہ کاروں کے مطابق ذوالقدر کے چھ مطالبات بنیادی طور پر ایران کے پہلے سے بیان کیے جانے والے مؤقف کا تسلسل ہیں، تاہم آبنائے ہرمز کو ان مطالبات کی تکمیل سے براہِ راست جوڑنے سے تہران کے مذاکراتی مؤقف میں سختی کا تاثر ملتا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے۔ اس کے ذریعے تیل اور گیس کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے، اس لیے اس راستے کی طویل بندش سے عالمی توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
ذوالقدر کے استعفے کی بھی قیاس آرائیاں
دریں اثنا محمد باقر ذوالقدر کے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری کے عہدے سے استعفیٰ دینے سے متعلق بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے استعفیٰ پیش کیا، تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسے قبول کرنے کے بجائے ان سے اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔
مارچ 2026 میں ذوالقدر کو علی لاریجانی کی جگہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکریٹری مقرر کیا گیا تھا۔ وہ سابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب کمانڈر اور سخت گیر سیاسی دھڑے سے وابستہ اہم شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایران اور امریکا عمان کی ثالثی میں کسی ایسے سمجھوتے تک پہنچ سکتے ہیں جو تہران کے مطالبات اور واشنگٹن کے مفادات کے درمیان قابلِ قبول توازن پیدا کرے۔ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو آبنائے ہرمز کی بندش عالمی توانائی منڈی کے لیے ایک بڑے نئے بحران کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ معاہدہ طے پانے کی صورت میں خطے میں کشیدگی کم ہونے اور عالمی بحری تجارت کی بحالی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
