نئی دہلی، 19 فروری۔ جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ماہ رمضان کو تزکیہ نفس، صبر واستقامت اور مضبوط قوت ارادی کا ذریعہ بنائیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسے وقت میں جب ایمان اور اخلاقی قدریں مسلسل دباؤ کا شکار ہیں روزہ تقویٰ، صبر اور اخلاقی مضبوطی پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ تقویٰ دل کی ایک کیفیت کا نام ہے۔ اللہ کی موجودگی اور اس کی نگرانی کا احساس انسان کو گناہ سے دور رہنے اور نیکی کی طرف مائل کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ روزہ مسلمانوں کو یہ شعور عطا کرتا ہے کہ وہ محض ظاہری عبادات اور رسمی پابندیوں تک محدود نہ رہے بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں تقویٰ اور پرہیزگاری کا احساس برقرار رکھیں۔
روزے کے روحانی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ روزے کے ذریعے انسان جسمانی لذتوں کے مقابلے میں روحانی مسرتوں سے آشنا ہوتا ہے۔ بھوک اور ضبطِ نفس یہ حقیقت واضح کرتے ہیں کہ صرف جسمانی آرام و آسائش ہی زندگی کا مقصد نہیں ہے بلکہ توبہ و استغفار روح کو پاکیزگی عطا کرتے ہیں اور مقصد حیات کو واضح کرتے ہیں۔
سید سعادت اللہ حسینی نے رمضان کو صبر کا مہینہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صبر کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے اصولوں پر چٹان کی طرح مضبوطی سے قائم رہے، چاہے بیرونی دباؤ ہو یا اندرونی خواہشات کا زور۔ انہوں نے کہا کہ روزہ بھوک، پیاس، مصروفیات اور توجہ بٹانے والے عوامل کے باوجود ضبطِ نفس کی تربیت دیتا ہے تاکہ انسانی زندگی نفس کے بجائے اللہ کے احکام کی تابع ہو۔ اللہ کی رضا کے لیے روزمرہ کی معمولات میں تبدیلی کے ذریعے مسلمان ارادے کی مضبوطی اور مشکل فیصلے کرنے کی طاقت پیدا کرتا ہے اور دباؤ میں بھی ثابت قدم رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اور بڑھتی بے حیائی کے باعث ایمان اور اخلاقیات کو مسلسل چیلنجز کا سامنا ہے ۔ ڈیجیٹل دور میں اخلاقی قدریں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ محض علامتی عبادات تک محدود نہ رہیں بلکہ رمضان کو اپنی زندگی کا ایک ایسا پڑاؤ بنائیں جو ذاتی اور اجتماعی سطح پر تبدیلی کا ذریعہ بنے، جس کی بنیاد تقویٰ اور استقامت پر قائم ہو۔
