4.4 C
New York
فروری 18, 2026
Delhi دہلیNational قومی خبریںTop News

قرآن و سنت اور سیرت طیبہ ہی اسلام کی تفہیم کی اساس: پروفیسر اقتدار محمد خان

قرآن و سنت

نوجوان محققین کے لیے عربی زبان اور بنیادی مصادر سے واقفیت ناگزیر/پروفیسر محمد فہیم اخترندوی
شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں ”اسلام پر اکیسویں صدی کی مغربی علمی تحقیقات کا تنقیدی جائزہ“ پر یک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد
 نئی دہلی، 19 فروری: ”قرآن و سنت سے متعلق بعض مغربی فضلاء کے ذہنی سانچے آج بھی وہی قدیم زاویے اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں جو گزشتہ صدیوں میں تشکیل پائے تھے، حالانکہ دیانت دارانہ اور معروضی تحقیق کا تقاضا یہ تھا کہ ان کے بنیادی مصادر کا براہِ راست اور منصفانہ مطالعہ کیا جاتا،تاہم سیرتِ نبوی کے باب میں اکیسویں صدی کے بعض مغربی علمی حلقوں میں نسبتاً مثبت اور متوازن رجحانات بھی سامنے آئے ہیں جو یقینا سنجیدہ علمی مکالمے کے امکانات کو تقویت دیتے ہیں۔“ان خیالات کا اظہار پروفیسر محمد فہیم اختر ندوی، سابق صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی، حیدرآباد نے شیخ الجامعہ پروفیسر مظہر آصف اور مسجل پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کی زیرِ سرپرستی منعقدہ یک روزہ قومی سیمینار بعنوان ”اسلام پر اکیسویں صدی کی مغربی علمی تحقیقات کا تنقیدی جائزہ“ کی افتتاحی تقریب میں کلیدی خطبہ دیتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید فرمایا کہ نوجوان محققین جدید اسلوبِ فکر اور انگریزی زبان کی مہارت سے آراستہ ہیں، لیکن عربی زبان سے وابستگی اور اس پر عبور بھی ضروری ہے، کیوں کہ اس کے بغیر اسلام کے اصل اور مستند مصادر تک براہِ راست رسائی ممکن نہیں ہے۔ واضح رہے کہ اس سیمینار کا انعقاد شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے سینٹر فار اسٹڈیز اینڈ ریسرچ، نئی دہلی کے اشتراک سے کیا ہے۔

ڈاکٹر محمد رضوان، ڈائریکٹرسیمینار نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سیمینار کا بنیادی مقصد طلبہ میں مشاہدہ، مطالعہ اور محاکمہ جیسے اہم اور بنیادی اصولوں کے ذریعے سنجیدہ علمی مزاج پیدا کرنا اور انہیں مذاکرہ، مجادلہ، مسابقہ اورمکالمہ کے ذریعے ایسا تحقیقی ماحول فراہم کرنا ہے جس سے وہ بھی اہلِ مغرب کی طرح تحقیق و تنقید کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دے سکیں۔پروفیسر عبدالرحیم قدوائی، ڈائریکٹر، کے اے نظامی سینٹر فار قرآنی اسٹڈیز، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی نے بذریعہ ویڈیو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں میں متعدد مستشرقین کی جانب سے سیرتِ طیبہ سے متعلق کذب و افتراء پر مبنی تعبیرات سامنے آتی رہی ہیں،تاہم اکیسویں صدی میں مغرب کے بعض سنجیدہ اور منصف مزاج اہلِ علم نے آپؐ کی حیاتِ مبارکہ کومعروضی اور دیانت دارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ اس رجحان سے مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان مشترکہ اخلاقی اقدار اور انسانی تعلیمات کو فروغ دینے کی راہ ہم وار ہوئی ہے۔

پروفیسر اقتدار محمد خان، صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز و ڈین فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ لینگویجز نے اپنے صدارتی خطاب میں مستشرقین اور اسلامیات کے آغاز و ارتقاء کا تاریخی اور فکری جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مستشرقین کے مطالعہ کا اصل مرکز قرآن کریم، احادیثِ نبوی اور سیرتِ طیبہ رہا ہے۔ ان کی فکری کاوشوں کا بڑا رخ اس امر کی جانب رہا کہ جدید ذہن کے حامل مسلمانوں کو کیسے ان بنیادی اور مستند ماخذ سے دور کیا جائے اور اس سلسلے میں شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں، تاہم تاریخ شاہد ہے کہ اسلام کے خلاف جس قدرفکری و علمی محاذ قائم کیے گئے، وہ اتنی ہی قوت اور طاقت کے ساتھ ابھرتا رہا۔ نیز انہوں نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ قرآنِ مجید اور سیرتِ نبوی کا مطالعہ براہ راست اصل مصادر سے کریں اور تدبر کے ساتھ دین کو سمجھنے کی سنجیدہ کاوش جاری رکھیں، کیوں کہ اسلام کی صحیح تفہیم قرآن وسنت کے گہرے مطالعے سے ہی ممکن ہے۔اسی دوران پروفیسر کنور محمد یوسف امین، نائب صدر، سی ایس آر، نئی دہلی نے اپنے لیکچر بعنوان ”اسلامی مطالعات میں کثیر جہتی منہج کی افادیت“ میں کہا کہ اکیسویں صدی میں اسلامی مطالعات کو محض تاریخی و لسانی مناہج تک محدود رکھنا کافی نہیں، بلکہ اسے کثیر جہتی نقطہئ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی وسعت اور معنویت کے مطابق اس کا جامع مطالعہ کیا جا سکے۔

اس موقع پر دو علمی نشستیں منعقد کی گئیں جن میں دس مقالہ نگاروں نے مختلف موضوعات پر اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے۔ ان نشستوں کی صدارت پروفیسر محمد اسحق اور پروفیسر سید شاہد علی نے کی، جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر انیس الرحمن اور ڈاکٹر محمد اسامہ نے انجام دیے۔ افتتاحی واختتامی نشست کا آغاز شعبہ کے طالب علم محمد وسیم کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ نظامت کے فرائض شعبہ کے سینئر استاد جناب جنید حارث نے انجام دیے اور کلماتِ تشکر سیمینار کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد ارشد اورڈاکٹر مجتبیٰ فاروق نے ادا کیے۔سیمینار کے کام یاب انعقاد میں شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے جملہ اساتذہ بالخصوص ڈاکٹر محمد ارشد، ڈاکٹر محمد خالد خان، ڈاکٹر محمد عمر فاروق اور ڈاکٹر جاوید اختر نیز منتظمہ کمیٹی کی کاوشیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔

Related posts

آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنتا کی نفرت انگیز بیانات کے خلاف سپریم کورٹ پہنچی جمعیۃ علماء ہند 

Hamari Duniya News

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کا سہ روزہ عالمی اردو کانفرنس کا افتتاح کل

Hamari Duniya News

قرآن پر عمل کامیابی کی ضمانت، مدارس دین کی اساس: مولانا زبیر رحمانی

Hamari Duniya News