نئی دہلی، 10 فروری: ہندستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں ایک خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا گیا ۔ معروف نقاد و دانشور پروفیسر قدوس جاوید ،سابق صدر شعبۂ اردو، یونیورسٹی آف کشمیر نے ’’معاصر اردو افسانہ‘‘ کے موضوع پر طلباو طالبات سے خطاب کیا۔ پروفیسر قدوس جاوید نے کہا کہ عصرِ حاضر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، کنزیومرزم (گلوبلائزیشن) اور مصنوعی ذہانت کے زیرِ اثر پیدا ہونے والے ڈسکورسیز اور آئیڈیالوجیز، نیز ان کے ردِعمل میں سامنے آنے والے جوابی بیانیات کی کثرت نے صحیح اور غلط جیسے تصورات کو بھی مشتبہ بنا دیا ہے۔ ایسے عہد میں ادب، بالخصوص افسانہ، محض تخلیقی اظہار نہیں بلکہ فکری رہنمائی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
پروفیسر قدوس جاوید کے مطابق معاصر افسانہ کسی اکہرے سچ یا محض تخیل پر مبنی نہیں بلکہ ایسی صداقت کا اظہار ہے جو خود بولتی ہے اور اسی سے معاصر افسانے کی شعریات تشکیل پاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاصر افسانہ سابقہ آئیڈیالوجیز کے مقابلے میں عصری صداقتوں پر مبنی جوابی بیانیات کا بے لاگ اظہار ہے، جہاں غیر روایتی لسانی برتاؤ، حقیقت پسندانہ اسلوب اور فنی و جمالیاتی دروبست کے ذریعے معنی، کیفیت اور فکر کی جامع صورت سامنے آتی ہے۔
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے معروف ادیب و محقق پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے کہا کہ معاصر اردو افسانہ اپنے عہد کی فکری، سماجی اور تہذیبی پیچیدگیوں کا بامعنی اظہار ہے۔ یہ افسانہ فرد کی داخلی کشمکش، معاشرتی ناہمواری، شناخت کے بحران اور سیاسی جبر کو علامت، تجرید اور حقیقت نگاری کے امتزاج سے پیش کرتا ہے اور قاری کو محض واقعہ سنانے کے بجائے سوچنے اور سوال کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔
پروگرام کی صدارت ہندستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی چیئرپرسن پروفیسر بندنا جھا نے کی، جب کہ اظہارِ تشکر ڈاکٹر نصیب علی(اسسٹنٹ پروفیسراور پروگرام کے کنوینر) نے پیش کیا۔پروگرام کی نظامت جے این یو کے طالب علم اسلم رحمانی نے انجام دی۔اس موقع پر ڈاکٹر شیو پرکاش، ڈاکٹر ملکھان سنگھ، ڈاکٹر عبدالمجید سمیت بڑی تعداد میں ریسرچ اسکالرز، طلبا اور طالبات موجود تھے
