1.1 C
New York
فروری 10, 2026
Delhi دہلیRegional News علاقائی خبریں

اردو صحافت چمک دمک کے بجائے قومی شعور کی بیداری کا آئینہ دار ہے: لئیق رضوی

جامعہ ملیہ اسلامیہ

شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیرِ اہتمام ’’اردو صحافت: چیلنجز اور امکانات‘‘ کے عنوان سے توسیعی خطبے کا انعقاد
نئی دہلی، 09 فروری: اردو صحافت محض خبروں کی ترسیل تک محدود نہیں، بلکہ قومی شعور کی بیداری میں مستحکم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ اس کی تاریخ مولوی محمد باقر کی شہادت کے لہو سے روشن ہے۔ اردو چینل کی اسکرین پر مصنوعی چمک دمک بھلے ہی نہ ہو، لیکن اپنے مشمولات اور ادارتی رنگ و آہنگ کے نظریے سے یہ کسی سے بھی کم نہیں۔ اردو بلیٹین تیار کرتے وقت بنیادی طور پر اردو بولنے اور سمجھنے والوں کی ضرورت اور پسند پیشِ نظر رہتی ہے۔ عجلت کے چکر میں کچھ بھی اسکرین پر انڈیل دینے کی بدنام روِش ، مین اسٹریم میڈیا کی بہ نسبت اردو میں بہت کم پائی جاتی ہے۔ خبرناموں کی طرح اردو چینل پر نشر ہونے والے مذاکرے بھی عمومی طور پر صحافتی اصول اور اخلاق کے ماتحت ہوتے ہیں۔ چیخ و پکار، ہنگامے اور دیگر ڈرامائی صورتوں کے بجائے یہاں بحث کا تناظر اور پیرایۂ اظہار سنجیدہ ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے زیرِ اہتمام شمیم حنفی سیمینار ہال میں ’’اردو صحافت: چیلنجز اور امکانات‘‘ کے عنوان سے منعقدہ توسیعی خطبے میں معروف صحافی لئیق رضوی نے کیا۔ انھوں نے اپنے خطبے میں کہا کہ اردو صحافت کو بہت سی علمی دشواریوں اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ فعال اور وسیع اشاعت کے حامل اخبارات محدود رہ گئے ہیں۔ اردو اخبارات کو سرکولیشن کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ اردو صحافت میں وسائل، تربیت اور تکنیکی مہارتوں کی کمی سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ معاشی بحران، قارئین کا بدلتا رجحان، تکنیکی پس ماندگی، تعلیمی و لسانی مسائل اور سماجی تاثر، اس کے بنیادی اسباب ہیں۔ لئیق رضوی نے اردو صحافت کے روشن امکانات کے حوالے سے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا اردو صحافت کے لیے سب سے بڑا میدان ہے۔ یوٹیوب، پوڈکاسٹ اور ای میگزین نئی نسل تک رسائی دے سکتے ہیں۔ ڈیٹا جرنلزم میں بھی اردو صحافت کے امکانات وسیع ہیں۔
صدر شعبۂ اردو پروفیسر کوثر مظہری نے اپنے خطبۂ صدارت میں مہمان مقرر کو ہدیۂ تبریک و تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطبہ محض معلومات کا مجموعہ ہی نہیں، بلکہ پرخلوص درمندی اور تصنع سے پاک جذبات کا مظہر بھی تھا۔ انھوں نے کہا کہ لئیق رضوی کے خطبے سے یہ بصیرت بھی ملی کہ اخبار صرف خبر کی ترسیل کا ذریعہ ہی نہیں، بلکہ تہذیبی، سیاسی، معاشرتی اور ادبی شعور وآگہی کا سرچشمہ بھی ہے۔ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اردو صحافت کو زندہ رکھنے کے لیے تمام اردو والوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ لازماً اردو اخبارات کے خریدار بنیں۔ راشٹریہ سہارا کا بند ہوجانا اردو صحافت کے ایک روشن باب کا خاتمہ ہے۔ اس موقع پر انھوں نے مہمان مقرر کا نہال پیشی سے استقبال کیا۔
اس توسیعی خطبے کے کنوینر پروفیسر سرورالہدیٰ نے مہمان مقرر کے تعارفی کلمات میں اردو کے صحافتی نظام کو ہمہ گیر تاریخی، قومی، تہذیبی اور تخلیقی سفر کا ایک ثروت مند ورثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادبی روایت سے صحافتی تاریخ کو منہا کردینا مناسب نہیں۔ اظہارِ تشکر کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مبشر نے کہا کہ لئیق رضوی کے لیے صحافت علم نہیں، بلکہ زندگی ہے۔ علم محض سوزِ دماغ کا عمل ہے، جب کہ زندگی سوزِ جگر چاہتی ہے۔ خطبے کا آغاز شعبے کے ریسرچ اسکالر عبدالرحمن عابد کی تلاوت سے ہوا۔ اس موقع پر پروفیسر شہزاد انجم، پروفیسر احمد محفوظ، پروفیسر ندیم احمد، پروفیسر عمران احمد عندلیب، ڈاکٹر سید تنویر حسین، ڈاکٹر مشیر احمد، ڈاکٹر محمد مقیم، ڈاکٹر جاوید حسن، ڈاکٹر راحین شمع، ڈاکٹر مخمور صدری، ڈاکٹر شاداب تبسم، ڈاکٹر محمد آدم، ڈاکٹر ثاقب عمران، ڈاکٹر نوشاد منظر، ڈاکٹر شاہنواز فیاض، ڈاکٹر خان رضوان، ڈاکٹر ثاقب فریدی اور ڈاکٹر راحت افزا کے علاوہ بڑی تعداد میں ریسرچ اسکالرز اور طلبا و طالبات موجود تھے۔

Related posts

ممبئی میں 26 جنوری کو گیٹ وے آف انڈیا پر عظیم الشان کل ہند مشاعرہ

Hamari Duniya News

ہماری کوشش ہے کہ ہمارا حلقہ ہرا بھرا اور چمکتارہے: زبیر چودھری

Hamari Duniya News

تسمیہ جونیئر ہائی اسکول کا 34 واں سالانہ جلسہ نہایت ہی شان وشوکت کے ساتھ منعقد 

Hamari Duniya News