حکومتِ دہلی کا دارالحکومت کو فعال ثقافتی مرکز بنانے کا عزم: کے۔ مہیش
نئی دہلی، 2 فروری: دہلی حکومت کی وزارتِ فن، ثقافت و السنہ کے تحت اردو اکادمی دہلی کے زیرِ اہتمام ’’اردو اساتذہ کا جشن‘‘ اتوار کو سینٹرل پارک، کناٹ پلیس، نئی دہلی میں کامیابی اور بھرپور عوامی شرکت کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس ادبی و ثقافتی جشن میں دہلی کے مختلف اسکولوں سے وابستہ اردو اساتذہ، طلبہ، ادبا اور ادب دوست حلقوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب کا آغاز استقبالیہ کلمات سے ہوا، جن میں اردو زبان کی تدریسی خدمات اور اساتذہ کے تعلیمی و فکری کردار کو سراہا گیا۔ پروگرام کے مہمانِ خصوصی جناب کے۔ مہیش، آئی اے ایس، سکریٹری محکمۂ فن، ثقافت و السنہ، حکومتِ دہلی تھے۔انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ دہلی حکومت دارالحکومت کو ایک فعال ثقافتی مرکز (کلچرل ہب) کے طور پر فروغ دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ محترمہ ریکھا گپتا اور وزیرِ فن و ثقافت و السنہ جناب کپل مشرا کی قیادت میں مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے فروغ کے لیے متنوع پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔

اردو اکادمی کے ساتھ ساتھ میتھلی، پنجابی، ہندی اور سندھی اکادمیوں کے ذریعے بھی ادبی و ثقافتی سرگرمیاں جاری ہیں، جن میں تمام زبانوں سے وابستہ شائقین کو شرکت کرنی چاہیے۔
پروگرام کی نظامت ریشما فاروقی اور صفیر صدیقی نے انجام دی۔ جشن کا آغاز تقریری مقابلے سے ہوا، جو دو زمروں میں تقسیم تھا۔ پہلے زمرے میں ٹی جی ٹی اساتذہ کے مابین ’’ڈیجیٹل دور میں کلاس روم کی اہمیت‘‘ کے موضوع پر تقریری مقابلہ ہوا۔ ججوں کی حیثیت سے شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی کے ڈاکٹر ارشاد نیازی اور دہلی حج کمیٹی کے ایگزیکٹو آفیسر جناب اشفاق عارفی شریک رہے۔ سات اساتذہ نے مقابلے میں حصہ لیا۔ ججوں کے فیصلے کے مطابق صائمہ ناز(زینت محل سروودیہ کنیا ودیالیہ، جعفرآباد) نے پہلی، کلثوم فاطمہ(زینت محل سروودیہ کنیا ودیالیہ، جعفرآباد) نے دوسری اور محمد دانش(سروودیہ بال ودیالیہ، جعفرآباد) نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

دوسرے زمرے میں پی جی ٹی اساتذہ کے لیے ’’اردو ادب کے فروغ میں اساتذہ کا فکری اور عملی کردار‘‘ کے موضوع پر تقریری مقابلہ منعقد ہوا، جس میں چھ اساتذہ نے شرکت کی۔ اس مقابلیمیں پہلی پوزیشن فرحان بیگ(ڈاکٹر ذاکرحسین میموریل سینئر سیکنڈری اسکول، جعفرآباد)، دوسری ڈاکٹر شہلا نواب(شفیق میموریل سینئر سیکنڈری اسکول) اور تیسری ڈاکٹر عبدالرزاق زیادی(جامعہ سینئر سیکنڈری اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ) کے حصے میں آئی۔ کامیاب شرکاء کو بالترتیب دس ہزار، آٹھ ہزار اور پانچ ہزار روپے نقد انعام دیے گئے۔
مقابلے کے اختتام پر ڈاکٹر ارشاد نیازی نے کہا کہ موجودہ دور میں اساتذہ کو تدریس کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ہوگا اور کلاس روم و ڈیجیٹل تعلیم دونوں میں مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ جناب اشفاق عارفی نے موضوع کے عمیق مطالعے اور تحقیق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اساتذہ طلبہ کے فکری معمار ہوتے ہیں، اس لیے ان کی ذمہ داریاں دوچند ہو جاتی ہیں۔
لنچ کے وقفے کے بعد اکادمی کے زیرِ انتظام اردو خواندگی مراکز کے طلبہ کو کورس کی تکمیل پر اسناد سے نوازا گیا۔ اس کے بعد بیت بازی کا مقابلہ منعقد ہوا، جس میں بطور جج ڈاکٹر شفیع ایوب اور ڈاکٹر شعیب رضا خاں وارثی موجود تھے۔ بارہ ٹیموں نے اس مقابلے میں شرکت کی۔ ججوں کے فیصلے کے مطابق ٹیم بی (محمد یونس، اسرار احمد اور وقاص حسین)نے پہلی، ٹیم جی (رخسانہ قیصر،اسماء صالحین اور تابندہ ناز)نے دوسری اور ٹیم ڈی (ڈاکٹر زاہد احسن، قمرالدین اورصالحہ الیاس) نے تیسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ ٹیم سی (عبدالرزاق زیادی،نفیس احمد اور رقیہ)کو حوصلہ افزائی انعام دیا گیا۔ اکادمی کی جانب سے کامیاب ٹیموں کو بالترتیب بارہ ہزار روپے، آٹھ ہزار روپے، پانچ ہزار روپے اور دو ہزار روپے نقد انعامات سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر شفیع ایوب نے اپنے خطاب میں کہا کہ شعر خوانی ایک باقاعدہ فن ہے، جس میں ادائیگی اور اسلوب کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے دہلی حکومت کی جانب سے اردو کے فروغ کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اردو زبان کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر شعیب رضا خاں وارثی نے اساتذہ کو اردو زبان کا مستقبل قرار دیتے ہوئے کہا کہ زبان کے تحفظ اور فروغ میں ان کا کردار بنیادی ہے۔
اس کے بعد غزل سرائی کا مقابلہ منعقد ہوا، جس میں سولہ اردو اساتذہ نے شرکت کی۔ اس مرحلے کے جج معروف شاعرہ علینا عطرت اور ڈاکٹر واحد نظیر تھے۔ ججوں کے فیصلے کے مطابق صائمہ الیاس نے پہلی، سید جعفر حسنین نے دوسری اور محمد میاں اشرفی نے تیسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ امتیاز احمد اور جاوید اختر کو حوصلہ افزائی انعام دیا گیا۔ کامیاب اساتذہ کو مہمانِ خصوصی کے دستِ مبارک سے بالترتیب دس ہزار روپے،آٹھ ہزار روپے، پانچ ہزار روپے اور دو ہزار روپے نقد انعامات ، مومینٹو اور اسناد سے نوازا گیا۔
شام کے اختتام پر صوفی سنگیت کا پروگرام پیش کیا گیا، جس میں دہلی گھرانے سے تعلق رکھنے والے معروف فنکار روہت بھٹ اور ان کی جگنی بینڈ نے روح پرور کلام پیش کیا۔ صوفیانہ موسیقی نے حاضرین کو خوب محظوظ کیا اور پروگرام دیر تک داد و تحسین کے ساتھ جاری رہا۔
رات آٹھ بجے اس ثقافتی جشن کا اختتام ہوا۔ اردو اکادمی دہلی کے ذمہ داران نے مہمانوں، فنکاروں، اساتذہ، طلبہ اور حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے آئندہ بھی اس نوعیت کے بامقصد پروگرام منعقد کیے جاتے رہیں گے۔
