0.5 C
New York
فروری 3, 2026
Delhi دہلیNational قومی خبریں

کوٹدوار میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے محافظوں کے خلاف پولیس کارروائی انتہائی تشویشناک: پروفیسر سلیم انجینئر

پروفیسر سلیم انجینئر

نئی دہلی، 02 فروری: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے کوٹدوار میں پیش آنے والےحالیہ فرقہ وارانہ واقعے سے نمٹنے کے پولیس طریقۂ کار پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ پولیس کی طرف سے کی گئی اب تک کی کارروائیاں انصاف، جوابدہی اور آئینی اقدار کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کرتی ہیں ۔

میڈیا کو جاری کئے گئے بیان میں پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند دیپک کمار اور وجے راوت کی اس اخلاقی جرات کی قدر کرتی ہے جس نے کوٹدوار میں حالیہ فرقہ وارانہ واقعے کے دوران ظلم کو روکنے میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ دوسروں کی عزت اور سلامتی کے لیے خوف اور تعصب سے بالاتر ہوکر کئے گئے اس طرح کے جرات مندانہ اقدامات ملک کی جمہوری بنیادوں کو مضبوط کرتے ہیں۔ جب لوگ ناانصافی اور فرقہ وارانہ نفرت کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو انسانیت مزید مستحکم ہوتی ہے اور یہی جذبہ ایک مضبوط اور متحد ملک کی تعمیر کرتا ہے۔

پروفیسر سلیم انجینئر نے مزید کہا کہ ہم دیپک کمار اور وجے راوت کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب ویڈیو سے واضح طور پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے اقدامات دفاعی نوعیت کے تھے اور یہ کہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے تھے۔لیکن اس کے باوجود ان نوجوانوں پر سنگین تعزیری دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اگرچہ پولیس نے یہ تسلیم کیا ہے کہ 31 جنوری کو دیپک کی رہائش گاہ کے گرد ایک ہجوم جمع ہوا، مسلم مخالف نعرے لگائے گئے اور کھلی دھمکیاں دی گئیں، مگر اس حوالے سے درج ایف آئی آر میں واضح ثبوتوں کے باوجود کسی ملزم کا نام شامل نہیں کیا گیا۔ سلیم انجینئر کہا کہ منظم فرقہ وارانہ دھمکی اور خوف و ہراس کو ‘نامعلوم افراد’ کے کھاتے میں ڈالنا جوابدہی کو کمزور کرتا ہے اور انتہاپسند عناصر کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

دکان کے مالک وکیل احمد کو دھمکیاں دئے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے پروفیسر سلیم انجینئر کہا کہ اس طرح کے واقعات مساوات، مذہبی آزادی اور انسانی حقوق جیسے آئینی ضمانتوں کے بنیادی اصولوں پر براہ راست حملہ ہیں۔ ہم پوڑی گڑھوال پولیس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام ایف آئی آر کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے تحفظ کے لیے اقدام کرنے والوں کے خلاف غیر ضروری الزامات واپس لیے جائیں اور تمام مجرموں کے خلاف غیر جانبدارانہ کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ جماعت اسلامی ہند ناانصافی کے خلاف کھڑے ہونے والوں کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے ، اس وقت اور آئندہ بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کے لیے کام کرنے والوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔

Related posts

انڈومان اور نکوبار کے جزائر کو "آزاد ہند” سے موسوم کرنے کی وکالت

Hamari Duniya News

نئی دہلی میں 31  جنوری کو ہندوستان اورعرب وزرائے خارجہ کی میٹنگ 

Hamari Duniya News

ہماری کوشش ہے کہ ہمارا حلقہ ہرا بھرا اور چمکتارہے: زبیر چودھری

Hamari Duniya News