0.5 C
New York
فروری 3, 2026
Regional News علاقائی خبریں

شبِ برات رسم نہیں، خود احتسابی اور اصلاحِ نفس کی رات: عظمت اللہ خان

عظمت اللہ خان

جن اعمال کا ثبوت نبیِ اسلام حضرت محمدﷺ کی حیاتِ طیبہ سے نہیں ملتا، انہیں عبادت کا لازمی حصہ بنا لینا درست نہیں۔

کیرانہ، 2 فروری (عظمت اللّٰہ خان)۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی ماہِ شعبان کی پندرہویں شب، یعنی منگل 3 فروری 2026 کو شبِ برات منائی جائے گی، جب کہ اس کے اگلے دن بدھ 4 فروری 2026 کو روزہ رکھا جائے گا۔ شبِ برات کے تعلق سے ہر سال سماج میں مختلف آرا سامنے آتی ہیں۔ ایک طبقہ اسے محض رسم و رواج اور ظاہری نمائش تک محدود کر دیتا ہے، جب کہ دوسرا طبقہ اس کی کسی بھی دینی اہمیت سے کلی طور پر انکار کرتا نظر آتا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اس رات کو اعتدال، فہم اور صحیح دینی نقطۂ نظر کے ساتھ سمجھا جائے۔

سماجی و مذہبی سوشل ورکر ڈاکٹر عظمت اللہ خان نے بتایا کہ دینی اہلِ علم کے مطابق شبِ برات کی ایک حد تک فضیلت روایات سے ثابت ہے۔ روایات کے مطابق اس رات ربِ کائنات اپنی مخلوق پر نظرِ کرم فرماتا ہے اور بے شمار بندوں کی مغفرت ہوتی ہے، تاہم شرک، باہمی عداوت اور قطعِ تعلق جیسے اعمال میں مبتلا افراد اس رحمت سے محروم رہتے ہیں۔ اسی لیے اس رات کی اہمیت سے مکمل انکار درست نہیں سمجھا جاتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اہلِ علم اس امر پر بھی متفق ہیں کہ جن اعمال کا ثبوت نبیِ اسلام حضرت محمدﷺ کی حیاتِ طیبہ سے نہیں ملتا، انہیں عبادت کا لازمی حصہ بنا لینا درست نہیں۔ اسی تناظر میں آتش بازی، غیر ضروری روشنی، شور و غوغا، مخصوص کھانوں کو لازم سمجھنا یا اس رات کو پورے سال کی تقدیر کا آخری فیصلہ قرار دینا دینی اعتبار سے نامناسب ہے۔

قرآنِ مجید کی سورۂ دخان میں مذکور “مبارک رات” کے حوالے سے اکثر مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے، نہ کہ شبِ برات۔ لہٰذا یہ تصور صحیح نہیں کہ اسی رات پورے سال کے فیصلے طے کر دیے جاتے ہیں۔ البتہ یہ رات توبہ، رجوع الیٰ اللہ اور خود احتسابی کے لیے ایک نہایت قیمتی موقع ضرور ہے۔

شبِ برات کے موقع پر قبرستان جانے کے تعلق سے بھی اعتدال پر مبنی رائے پائی جاتی ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ نبیِ اسلام حضرت محمد ﷺ اس رات جنت البقیع تشریف لے گئے تھے۔ اسی بنیاد پر قبرستان جانا جائز ہے، تاہم اسے لازم سمجھنا، ہجوم اکٹھا کرنا یا مخصوص طریقوں کو ضروری قرار دینا مناسب نہیں۔

ڈاکٹر عظمت اللہ خان نے سماج کے نوجوانوں سے خصوصی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ شبِ برات خود سدھار اور نفس کی اصلاح کی رات ہے، نہ کہ شور و شرابے اور ہنگامہ آرائی کی۔ بائک پر سوار ہو کر پٹاخے پھوڑنا، سڑکوں پر ہلڑ بازی کرنا اور عوام کو پریشان کرنا نہ صرف دینی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ اس سے سماج میں غلط پیغام جاتا ہے اور مذہب کی شبیہ بھی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس مقدس رات کو امن، وقار اور نظم و ضبط کے ساتھ گزارا جانا چاہیے۔

اہلِ علم کے مطابق شبِ برات کی اصل روح خاموشی کے ساتھ عبادت، دل کی صفائی، توبہ و استغفار اور باطنی اصلاح میں مضمر ہے۔ اگر کوئی فرد اس رات تنہائی میں نفل نماز ادا کرے، قرآن و دینی تعلیمات کا مطالعہ کرے اور اپنے اعمال کا جائزہ لے تو یہ نہایت بہتر عمل ہے، بشرطیکہ اسے فرض یا لازم نہ سمجھا جائے۔

اہلِ دانش کا کہنا ہے کہ شبِ برات نہ تو جشن کی رات ہے اور نہ ہی اختلاف و نزاع کی، بلکہ یہ اپنے گریبان میں جھانکنے، رب سے تعلق مضبوط کرنے اور زندگی کو درست راہ پر لانے کا موقع ہے۔ پیغام بالکل واضح ہے،نہ افراط، نہ تفریط؛ بلکہ اعتدال، سادگی اور حسنِ عمل۔ اگر اس رات کو شور کے بجائے سکون، نمود و نمائش کے بجائے اخلاص اور رسم کے بجائے اصلاح کے ساتھ گزار لیا جائے، تو یہی شبِ برات کی حقیقی برکت اور معنویت ہے۔

Related posts

جمہوریت کے مفہوم اور اس کے چیلنجز اور موجودہ دور میں اس کی اہمیت

Hamari Duniya News

جمعیت اہل حدیث، سدھارتھ نگر، یوپی کی رفاہی و سماجی خدمات قابل ستائش

Hamari Duniya News

اہل فلسطین قرآن کے عاشق،مکمل طور پر کوئی ختم نہیں کرسکتا: مولانا بلال تھانوی

Hamari Duniya News