
اے:آزادقاسمی
آج ہماراملک بڑے ہی تزک واحتشام کے ساتھ اپنا77واں یوم جمہوریہ منار ہاہے، 26جنوری کا دن تمام شہریوں کے لئے اس پس منظرمیں بھی قابل فخرہے کہ ہم دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کا حصہ ہیں،ہمارے بزرگوں نے آج ہی کے دن 1950 کوایک ایسے سیکولردستورکواپنایااوراپنے اوپرنافذ کیاجس میں جمہوری قدروں کی حفاظت اوراس کے سایہ میں ہرایک کو بغیر کسی بھیدبھاؤکے زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیاگیا ہے، آج کے دن کی اہمیت اور قومی تہوارکویادکرکے ہرایک ہندوستانی اپنے کو قابل فخر محسوس کرتاہے، ہم ملک کی آزادی کے لئے اپنی جانوں کی قربانی پیش کرنے والے مجاہدین آزادی کو یادکرتے ہیں اور ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،طرح طرح کے ثقافتی اورکلچرل پروگراموں کے ذریعہ ہم اپنی نئی نسل کو یہ سبق دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ آج ہم جس کھلی فضامیں سانس لے رہے ہیں وہ ہمارے بزرگوں کی بے لوث قربانیوں کا نتیجہ ہے، حالات کیسے بھی ہوں ہمیں ہر حال میں اپنی جمہوری قدروں کی حفاظت کے لئے کمربستہ رہنا چاہئے، ملک میں بھائی چارہ،امن اوراستحکام کے لئے کسی بھی طرح کی قربانی پیش کرنے سے پیچھے نہیں ہٹناچاہئے۔آج کا دن جہاں ہمیں یہ پیغام دیتاہے کہ ہم ایک پائیداراورصحت مندجمہوریت کا حصہ ہیں وہیں یہ بھی یاددلاتاہے کہ ہمارے بزرگوں نے خاص کر طبقہ اہل مدارس نے کس جانفشانی اوراعلیٰ ترین تدبریں اختیارکی ہیں ملک کی آزادی اوراس کے جمہوری طرزحکومت کو پروان چڑھانے میں۔اگرہم آزادی ہند کی سرخیل جماعت اورملت کی نمائندہ تنظیم جمعیۃعلماء ہند کے اکابرین کا ملک کی آزادی اورجمہوری طرزحکومت کے نفاذمیں کیاکرداررہاہے،توتاریخی اوراق کی شہ سرخیاں یہ بتاتی ہے کہ ملک کی جمہوری قدروں کی حفاظت اوراس کی آبیاری میں جمعیۃعلماء ہند کے بزرگوں کا بنیادی اورکلیدی کرداررہاہے،جس کاکسی بھی مرحلہ میں انکارممکن نہیں۔
اس اہم موقع پر جمعیۃعلماء ہند کی تاریخ کی ایک جھلک آپ ملاحظہ فرمائیں تاکہ اس کے روشن کارناموں سے موجودہ نسل روشناس ہوسکے اور اپنے شاندارماضی کوسامنے رکھ کر مستقبل کے محل کی آبیاری کرسکے۔ جمعیۃعلماء ہند نے 1920ء میں اپنے دستورکے اغراض ومقاصد کی چو تھی دفعہ میں کہاتھا:”ہم وطنوں غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ فطرت انسانی کے اقتضاء کے ماتحت ہمدردی اور اتفاق کو ترقی دینا“جمعیۃ علماء ہندکے صدراول اسیر مالٹا شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن ؒ نے جمعیۃعلماء کے دوسرے اجلاس عام منعقدہ نومبر1920میں کہا ”ہندومسلمان متحدہ ہوکر آزادی کی جنگ میں حصہ لیں، مسلمان ایک تو پختہ کار مسلمان ہوں، صورت سے مسلمان ہوں، سیرت سے مسلمان ہوں، ایمان ویقین، وضع قطع ہر اعتبار سے مسلمان ہوں اور دوسری طرف اپنے ہم وطنوں سے اتفاق واتباع کو ضروری اور نتیجہ خیز سمجھیں“
جمعیۃعلماء ہند کے اکابرنے اسی نظریہ اور اصول کو رہنما بنایا اور پوری ثبات قدمی اور قوت واستقامت سے برادران وطن کے ساتھ ملک کی جنگ آزادی میں شریک ہوگئے، لوگوں کی گالیاں کھائی، طعنے سنے، طرح طرح کے القاب سے نوازے گئے مگر ان کے پائے استقامت میں ذرہ برابرلغزش نہیں آئی اور پہاڑ کی طرح اپنے مشن پر ڈٹے رہے تاآنکہ ملک غیروں کی غلامی سے آزادہوگیا، اقتدارنے کروٹ لی اور قومی حکومت قائم ہوگئی۔ اس پرآشوب دورمیں جمعیۃعلماء ہند کے اکابرنے حالات کا گہرائی سے جائزہ لیا اور غوروخوض کے لئے دہلی میں 20/مارچ1948ء کو جمعیۃعلماء ہند کا اجلاس طلب کرلیا۔
اجلاس میں تجویز پاس کر کے سیاست سے علیحدگی کا فیصلہ لے لیا، تجویز کی تائید کرتے ہوئے امام الہند مولانا ابوالکلام آزادنے فرمایا: ”جمعیۃکو اب سیاست کی ضرورت نہیں، اسی لئے جمعیۃ کی مجلس عاملہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کی سیاسی سرگرمیوں کو ختم کردیا جائے، اب اس کی منظوری جلسہ عام سے لینا ہے اسی مقصدکے لئے یہ ا جلاس منعقدکیا گیا ہے، لیکن ہمیں یہ نہ سمجھ لینا چاہے کہ سیاست سے ہٹ جانے سے ہمارا بوجھ ہلکا ہوگیا، واقعہ یہ ہے کہ اب ہمارا بوجھ دوگنا ہوگیا ہے اور ہماری ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں، اب جمعیۃعلماء ہند سیاسی نہیں بلکہ تعلیمی ہے، سماجی ہے، معاشی ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم اپنے آپ کو اس نئے سانچے میں ڈھال لیں، موجودہ حکومت قومی ہے وہ چاہتی ہیں کہ مسلمان اپنی بہتری کے کام خودانجام دیں ان الفاظ کے بعد میں اس تجویز کی تائید کرتا ہوں“۔اجلا س کی ایک دوسری تجویز میں کہا گیا:”مرکزی جمعیۃعلماء ہند کا یہ اجلاس اس نتیجہ پر پہنچاہے کہ جمعیۃعلماء کا دائر ۂ عمل آئند ہ صرف مذہبی، تمدنی اور تعلیمی حقوق کے دائرے میں محدودرہے اور جہاں تک مسلمانوں کے سیاسی حقوق وفرائض کا تعلق ہے مسلمانوں کو غیر فرقہ وارانہ اور مشترک طریقہ عمل کی دعوت دینی چا ہئے۔“
ہماراملک ہندوستان ایک زرخیز گلشن ہے اوراس کی جمہوری طرزحکومت بے حدمتوازن ہے، جس میں مختلف رنگ و روپ کے پھول کھلتے ہیں، صدیوں سے مختلف مذاہب کے پیروکار مل جل کر رہتے چلے آئے ہیں اور دستور ہند میں دئے گئے حقوق کے مطابق اپنے مذہب پر آزادانہ عمل کرتے آئے ہیں،اس ملک کی روایت رہی ہے کہ یہاں ہندو اور مسلمان ہمیشہ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک رہے ہیں اور ایک دوسرے کے مذہب، ریت ورواج اور بزرگوں کا لحاظ کیا جاتا رہا ہے، لیکن آج ہمارا ملک ایسے دو راہے پر کھڑا ہے کہ اگر ملک کے سنجیدہ لوگ بیدار نہ ہوئے اور اپنی تہذیب و ثقافت اور سیکولرازم کی روایات کے تحفظ کے لئے صف آرا نہ ہوئے توہماری جمہوری طرزحکومت کمزورسے کمزورترہوجائیں گی۔یہی وجہ ہے کہ جمعیۃ علما ء ہند کے صدر امیرالہند مولانا ارشدمدنی اپنے بزرگوں کی آرااوران کے نظریات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کسی بھی ناگہانی کے وقت سینہ سپرہوکرملک وملت کی رہنمائی کے لئے میدان میں آجاتے ہیں اورملک و قوم کے تئیں ذمہ داری کا احساس کراتے ہوئے مستقبل کے لائحہ عمل کو طے کرنے اورمؤثربنانے کے لئے یکجہتی، آپسی بھائی چارہ اورہم آہنگی کا پیغام دیتے ہوئے نظرآتے ہیں،خاص کر مسلمانان ہند کے ذہن سے دوسرے درجہ کاشہری بننے کا تصوردورکرنے اوران کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی بعض اوقات منفی پروپیگنڈہ کے طورپر تشہیرکی جاتی ہے اورملک وملت کے لئے ان کی بے لوث اورہمدردانہ کوششوں کو الگ رخ دیدیاجاتاہے۔
جمعیۃ علما ہندکا،قیام کے وقت سے ہی ملک میں ہندو مسلم اتحاد اورمتحدہ قومیت ایک اہم مقصد رہا ہے اور اسی کے تحت جمعیۃ علما ہند نے جد و جہد آزادی کے دوران مذہب کے نام پر ملک کی تقسیم کے مطالبہ کی شدید مخالفت کی تھی اور دو قومی نظریہ کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہو گئی تھی۔جس وقت جمعیۃ علما ہند کا قیام عمل میں آیا تھا اس وقت جمعیۃ کے مقاصد میں مسلمانوں کی سیاسی رہنمائی کرنا بھی شامل تھا لیکن تقسیم وطن کے بعد مارچ 1948میں لکھنؤ میں منعقد جمعیۃ کی کانفرنس کے دوران سیاست سے الگ ہونے اور صرف مذہبی، سماجی اور تعلیمی رہنمائی کرنے کا ہی اعلان کر دیا۔اس کے باوجود جب بھی کبھی ضرورت پیش آئی جمعیۃ علما ہند نے برسراقتدارافراد کے سامنے اپنی بات کہنے سے کبھی گریز نہیں کیا،تقسیم ملک کے بعد جب مسلم اقلیت پر مظالم اور ان کے خلاف فساد اور تعصب کا سلسلہ بڑھنے لگا تو 1953میں ناظم اعلیٰ جمعیۃ علما ہند نے اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہروسے کہاتھاکہ ”جو حکومت دونوں فرقو ں کے درمیان انصاف کے معاملے میں امتیاز رکھتی ہو وہ خود ہی اپنی جڑوں کو کھوکھلا کرتی ہے۔“ اس کے علاوہ مسلم پرسنل لا میں مداخلت کی کوششوں اوردہشت گردی کے معاملے میں بے قصور مسلم نوجوانوں کو پھنسائے جانے کے خلاف بھی جمعیۃعلماء ہند کے پلیٹ فارم سے مولانا مدنی اس وقت کی کانگریس حکومت کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوگئے، جس کااثریہ ہواکہ اس وقت کے وزیرداخلہ شیوراج پاٹل کو اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینا پڑا۔ جمعیۃ علما ہند کا واضح موقف ہے کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور آئین نے تمام مذاہب کے لوگوں کو اپنے مذہب کے طور طریقوں کے مطابق عبادت کرنے کی آزادی دی ہے۔قومی تہوار کے اس اہم موقع پر دانشوران ملت کے لئے ضروری ہے کہ وہ مولانا ارشدمدنی صدرجمعیۃعلماء ہند کے اس کازکی حمایت کریں جس میں ملک کے ہر باشعورافرادسے انہوں نے ملک کی سالمیت اوراس کے سیکولرتانے بانے کی مضبوطی کے لئے کام کرنے کامشورہ دیا ہے”مسلمانوں کو اپنے برادران وطن کے ساتھ اپنے معاملات اچھے رکھنے چاہئے اور ایک دوسرے کے سکھ دکھ میں شریک ہونا چاہئے۔جب ہم یہ چاہتے ہیں کہ سیکولر ہندو ہم پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کریں اور ہمارا ساتھ دیں تو ہمارا بھی یہ فرض بن جاتا ہے کہ جب دلتوں اور دیگر کمزور طبقات پر ظلم ہو تو ہمیں بھی اس کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے اور ان کی مدد کرنی چاہئے، تب ہی ملک میں پیار و محبت اور ہم آہنگی کی فضا میں اضافہ ہو سکے گا۔“خوش آئند بات ہے کہ ملک کے دستور، سیکولرجمہوری روایات، گنگا جمنی تہذیب اور ہم آہنگی کے قیام کے لئے ملک کا سنجیدہ طبقہ نہ صرف بیدار ہے بلکہ ملک و قوم کے لئے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ہر آن ملک کی ترقی وبرتری کے لئے کوشاں ہے جو یقینی طورپرجمہوریت کی استحکام اوربقاکے لئے امیدکی کرن ہے،یہی وہ ذمہ داریاں ہیں جس کو صحیح سمت دینااورسیدھے راستہ پراستوارکرناہم سب کا قومی فریضہ ہے۔اس وقت جمعیۃعلماء ہند کی قیادت نہ تھکنے والے مردمجاہدمولانا سیدارشدمدنی کے ہاتھوں میں ہے جو بیدارمغز،فعال ومتحرک رہنماکے طورپر پورے ملک میں مشہورہیں اوراپنے فرائض منصبی کو پختہ عزم وہمت کے ساتھ اداکررہے ہیں یہ وہ توانائی ہے جو ان کی شخصیت میں اکابرجمعیۃسے منتقل ہوتاہواآیاہے۔
