نئیرعالم
(ایڈورٹائزنگ اینڈ پی آر پروفیشنل)
صحافت کی دنیا میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہمیشہ عزت اور احترام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ سر مارک ٹلی بھی ایسا ہی ایک نام تھے۔ کئی نسلوں کے لیے وہ صرف ایک غیر ملکی نامہ نگار نہیں تھے بلکہ ہندوستان اور دنیا کے درمیان ایک مضبوط کڑی تھے۔ ان کی رپورٹنگ میں نہ شور تھا اور نہ ہی سنسنی، لیکن اس میں سچائی، گہرائی اور وقار تھا جو اسے خاص بناتا تھا۔
مارک ٹلی نے طویل عرصے تک ہندوستان میں بی بی سی کے بیورو چیف کے طور پر خدمات انجام دیں۔ یہ وہ دور تھا جب ملک کئی بڑے واقعات سے گزر رہا تھا۔ 1975 کی ایمرجنسی، آپریشن بلیو اسٹار، اندرا گاندھی کا قتل اور 80 اور 90 کی دہائی کی سیاسی ہلچل — ان سب واقعات کو انہوں نے صاف اور متوازن انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ان کی آواز معتبر صحافت کی پہچان بن گئی تھی۔
ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ صرف اقتدار کے ایوانوں تک محدود نہیں رہے۔ وہ دیہات تک گئے، کسانوں سے ملے، مزدوروں سے بات کی، چھوٹے تاجروں اور مذہبی رہنماؤں کو سنا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان کی اصل کہانی صرف پارلیمنٹ میں نہیں بلکہ گاؤں، بازار اور عام لوگوں کی زندگی میں بسی ہوئی ہے۔
ان کی رپورٹنگ پُرسکون اور سوچ سمجھ کر کی جاتی تھی۔ آج کے دور میں جب سب سے پہلے خبر دینے کی دوڑ لگی رہتی ہے، مارک ٹلی کا ماننا تھا کہ صحافت کا مقصد صرف خبر دینا نہیں بلکہ درست خبر دینا ہے۔ وہ حقائق کی جانچ کرتے، مکمل معلومات جمع کرتے اور پھر رپورٹ پیش کرتے تھے۔ اسی وجہ سے انہیں ہر طبقے میں احترام حاصل ہوا۔
انہوں نے تحریر کے ذریعے بھی ہندوستان کو سمجھنے کی کوشش کی۔ “انڈیا ان سیلو موشن” اور ’نو فل اسٹاپ ان انڈیا‘ جیسی کتابوں میں انہوں نے ہندوستان کی پیچیدگیوں کو سادہ زبان میں بیان کیا۔ نہ انہوں نے بے وجہ تعریف کی اور نہ بلا سبب تنقید، بلکہ ایمانداری کے ساتھ سچ کو پیش کیا۔
آج جب میڈیا پر مختلف سوالات اٹھتے ہیں، مارک ٹلی کو یاد کرنا اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ صحافت میں ایمانداری سب سے اہم ہے۔ خبر دینے سے پہلے اس کی تصدیق ضروری ہے، اور سرخیوں کی دوڑ میں انسانیت کو نہیں بھولنا چاہیے۔
انہوں نے ثابت کیا کہ بغیر جانبداری کے بھی صحافت مؤثر ہو سکتی ہے، اور بغیر سنسنی کے بھی لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کی کوشش ہمیشہ سچ کو سامنے لانے کی رہی، نہ کہ تالیاں سمیٹنے کی۔
مارک ٹلی کو یاد کرنا صرف ایک عظیم صحافی کو خراجِ عقیدت پیش کرنا نہیں، بلکہ صحافت کی بنیادی قدرو — سچائی، توازن، صبر اور ذمہ داری — کو دوبارہ یاد کرنا ہے۔ ان کی میراث آنے والی نسلوں کو ہمیشہ تحریک دیتی رہے گی۔
