12.1 C
Delhi
February 23, 2024
Hamari Duniya
Breaking News مضامین

ٹھاکرے کو دیوار سے لگانے کی کوشش

Udhav Thackeray

مشرف شمسی
شیو سینا کا نام اور انتخابی نشان فریز یعنی سرد خانے میں ڈال دیا گیا یا منجمد کر دیا گیا ہے۔حالانکہ یہ کاروائی الیکشن کمیشن نے کیا ہے لیکن اس کاروائی کے ذریعے مودی اور شاہ نے سبھی علاقائی جماعتوں کو ایک سندیش ضرور دے دیا ہے کہ اگر کوئی بھی جماعت ا±نھیں حکومت سے بے دخل کرنے کی بات سوچتی بھی ہے تو اس کا حشر ٹھاکرے اور شیو سینا جیسا ہوگا یعنی پوری کی پوری پارٹی کو دیوار سے لگا دیا جائے گا۔انتخابی نشان اور پارٹی کا نام فریز ہو جانے کے بعد ٹھاکرے پریوار کے سامنے نئے سرے سے پارٹی کو کھڑا کرنے کا چیلنج ہے۔ٹھاکرے پریوار کے سامنے اس چیلنج کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔ٹھاکرے اب بی جے پی کے ساتھ جا نہیں سکتے ہیں لیکن اب بھی بی جے پی کی جانب سے یہ کوشش ضرور ہو رہی ہو گی کہ کسی طرح ٹھاکرے ا±ن کے ساتھ آ جائیں۔2024 کے لوک سبھا چناو¿ سے پہلے ٹھاکرے کو بی جے پی کے ساتھ لانا اسلئے بھی ضروری ہے کہ بنا ٹھاکرے کے بی جے پی مہاراشٹر میں گزشتہ لوک سبھا چناو¿ کے مقابلے نصف سیٹ بھی جیت لیے تو یہ ا±ن کے لئے بڑی کامیابی ہوگی۔مہاراشٹر میں کل 48 لوک سبھا سیٹیں ہیں اور گزشتہ لوک سبھا چناو¿ میں بی جے پی اور شیو سینا مل کر 43 سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی تھیں۔لیکن ٹھاکرے پریوار کا بی جے پی سے الگ ہو کر چناو¿ لڑنے کا مطلب ہے کہ بی جے پی کے نمبر میں بڑا سیندھ لگ سکتا ہے اور بی جے پی کے لیے 2024 کے لوک سبھا چناو¿ میں اکثریت حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔
جہاں تک شیو سینا کا انتخابی نشان اور پارٹی کا نام منجمد کیئے جانے کا امکان صرف شیو سینا کے اعلی رہنماو¿ں کو ہی نہیں تھا بلکہ گزشتہ آٹھ سال سے ملک میں مودی اور شاہ کی سیاست کا اے بی سی بھی جانتے ہیں ا±نھیں بھی معلوم تھا کہ ایسا ہونے والا ہے۔اسلئے ٹھاکرے اور اسکی پارٹی اسکے لیے پہلے سے تیار تھی۔لیکن شیو سینا کے انتخابی نشان اور پارٹی کے نام کو منجمد کر دیے جانے سے اگر بی جے پی اور شندے گروپ خوش ہیں تو ا±نھیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ شیو سینا کا مطلب ہی ہوتا ہے ٹھاکرے پریوار۔ٹھاکرے کے بنا شیو سینا کا وجود ہی نہیں ہے۔ساتھ ہی شیو سینا کیڈر کی بنیاد پر بنی ایک پارٹی ہے۔انتخابی نشان اور پارٹی کا نام چھین لیے جانے کے باوجود ٹھاکرے کے نام پر ووٹ ملتے ہیں اور ملیں گے اس میں کسی طرح کی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ٹھاکرے مہاراشٹر کی سیاست کا ایک مضبوط کھمبا ہیں اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔انتخابی نشان اور پارٹی کا نام منجمد کیئے جانے سے ٹھاکرے کے تئیں مراٹھی مانوس کی ہمدردی میں اور اضافہ ہوگا۔جب ٹھاکرے ،کانگریس اور راشٹر وادی کانگریس ایک ساتھ مل کر چناو¿ میں بی جے پی سے مقابلہ کرنے ا±ترے گی تو یقیناً بی جے پی کے لئے مشکل کھڑی ہوگا۔۔
شیو سینا کو جس طرح سے تقسیم کیا گیا اور اب شیو سینا سے پارٹی کا نام اور چناو¿ نشان چھین لیا گیا ہے اس سے حزب اختلاف کی دوسری علاقائی پارٹیاں الرٹ پر آ گئی ہیں۔خاص کر نتیش کمار کی جنتا دل یو اور تلنگانہ کی چند شیکھر راو¿ کی پارٹی میں کسی بھی طرح کی شگاف نظر آئی تو ا±سے بکھیرنے میں وقت نہیں لگے گا۔اسلئے حزب اختلاف کی جماعتوں کو بی جے پی کی گھیرا بندی سے پہلے اپنا قلعہ مضبوط کرنا ہوگا۔کیونکہ بی جے پی کے پاس بےتحاشہ پیسہ ہے اور ساتھ میں جانچ ایجنسیاں جس کی مدد سے اچھے اچھے کی کمر توڑی جا سکتی ہے اور جا رہی ہیں۔اسلئے 2024 کے لوک سبھا چناو¿ سے پہلے بی جے پی ہر طرح کے ہتھکنڈے کا استعمال کرے گی تاکہ اس مخالف حالات میں بھی ا±سے کسی بھی طرح اکثریت حاصل ہو جائے۔لیکن 2024 کے چناو¿ سے پہلے حزب اختلاف کی سبھی پارٹیاں خاص کر کانگریس اور راشٹر وادی کانگریس کی ذمےداری بنتی ہے کہ وہ سب شیو سینا کا ساتھ دے تاکہ شیو سینا کو دیوار سے لگانے کی جو کوشش ہو رہی ہے اس سے ٹھاکرے کو باہر نکالا جائے۔کیونکہ ہندوتو کے نام پر ٹھاکرے اور اسکی پارٹی ہی بی جے پی سے مقابلہ کر سکتی ہے۔کانگریس اور راشٹر وادی کانگریس نے سمجھداری کا کام کیا ہے کہ اندھیری مشرق میں ہونے والی اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں ٹھاکرے کے امیدوار کو اپنی حمایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اندھیری مشرق اسمبلی حلقہ کے چناو¿ نتیجے مہاراشٹر کی آگے کی سیاست کی حقیقت بیان کر دےگی۔
میرا روڈ ،ممبئی
موبائیل 9322674787

Related posts

جیلوں میں بند بے قصور مسلمانوں کو انصاف دلانے والی مضبوط آواز خاموش ہوگئی

Hamari Duniya

قاری مشتاق احمد کا فیض پوری دنیا میں جاری ہے: بلال حسنی ندوی

Hamari Duniya

کانگریس کی کمان سنبھالنے کے بعد مولاناابوالکلام آزاد کے مزار پر ملکارجن کھڑگے نےدی حاضری

Hamari Duniya